تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 224
خطبہ جمعہ فرمودہ 07 نومبر 1975ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم بندوں کی خدمت میں لگاؤ گے اور اگر ضرورت پڑے تو جو موت میں نے تمہارے لئے مقدر کی ہے، اس کو بشاشت سے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے ، اس موت کو میرے لئے قبول کر لو گے، تو تمہیں عذاب الیم سے بچایا جائے گا۔اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو عذاب الیم میں مبتلا ہو گے۔ان آیات میں بہت لمبا مضمون ہے۔مگر اس تفصیل میں، میں اس وقت نہیں جاؤں گا۔صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مالی جہاد کو بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک عظیم جہاد قرار دیا ہے۔اور انسان اگر عقل اور فراست رکھتا ہو تو حیران ہوتا ہے کہ وہ خودہی ہمارے ہاتھوں میں دولت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے دو گے (اس میں سے جو میں نے تمہیں دیا ہے۔تو میں تمہیں عذاب الیم سے بچالوں گا۔پس یہ گھاٹے کا سودا نہیں، یہ تو بڑا ہی نفع مند سودا ہے۔اور جولوگ اس سے غفلت برتتے ہیں، جو اس کی طرف توجہ نہیں کرتے، جو اس کو اچھا نہیں سمجھتے ، جو اس کی حقیقت کو نہیں پہچانتے ، جو اپنی نسلوں کی بہبود کا خیال نہیں رکھتے، جو اپنے مستقبل کی پرواہ نہیں کرتے ، جو اخروی زندگی کا تصور اپنے دماغوں میں نہیں لاتے اور اللہ تعالیٰ نے جو بشارتیں دی ہیں، ان بشارتوں کے مطابق خدا تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی رحمتوں کے حصول کے لئے کوشاں نہیں ، وہ بڑے ہی خسارے میں ہیں۔وہی عذاب الیم ہے۔جس نے خدا کو ناراض کر لیا، اس سے بڑا اور کیا عذاب اس کو ملے گا۔اللہ تعالیٰ نے اس بات کو انسان کی اپنی سمجھ پر نہیں چھوڑا کہ وہ کب اور کس طرح اور کن راہوں پر اس کی خوشنودی کے حصول کے لئے خرچ کرے۔بلکہ ابتدائے اسلام سے اللہ تعالیٰ نے اس کی راہنمائی کا انتظام کیا ہے۔ابتداء تو ہوئی اس عظیم ہستی سے یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ جن کی عظمت اور جلالت کا تصور میں بھی انسانی ذہن احاطہ نہیں کر سکتا۔آپ اعلان کرتے تھے کہ خرچ کرو۔آپ کی طرف سے یہ اعلان ہوتا تھا کہ یہ راہ ہے خرچ کرنے کی ، اس میں مال دو۔کبھی جب دشمن تلوار سے حملہ آور ہوتا تھا تو اس کے مقابلہ کے لئے مال کو خرچ کرنے کی ندا آتی تھی ، اپنے اوقات کو خرچ کرنے کی ندا آتی تھی کہ کاموں کو چھوڑو اور اسلام کی حفاظت کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یا آپ کے مقرر کردہ سپر سالار کی معیت میں کام کاج، ہر چیز کو چھوڑ کر باہر نکلو اور اپنے وقتوں کو خرچ کرو۔اور کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ ان کو یہ کہا جاتا کہ شہادت ایک عظیم انعام ہے، ہو سکتا ہے تمہیں وہ بھی مل جائے۔زندگی کے لمحات کا خدا کی راہ میں خرچ کرنا، یہ بھی ایک طریق ہے، خدا کی راہ میں زندگی وقف کر دینے کا۔اور خدا کی راہ میں شہادت کو قبول کر لینا، یہ موت بھی جو اس نے عطا کی ہے، عظیم احسان ہے۔انسان کی موت ایک عظیم پس منظر رکھتی ہے۔اس موت کو خدا کے لئے قبول کر لینا اور ابدی جنتوں کا وارث بن جانا، یہ بھی ایک عظیم انعام 224