تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 215
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم اسی تسلسل میں حضور نے مزید فرمایا:۔خلاصہ خطبہ عید الفطر فرموده 07 اکتوبر 1975ء چونکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو دنیا میں غالب کرنے کے لئے ہمیں منتخب فرمایا ہے، اس لئے اس نے ہمیں دوسروں کو دکھ دینے کے لئے نہیں بلکہ سکھ پہنچانے کے لیے پیدا کیا ہے۔اس نے ہمیں دوسروں کو مارنے کے لئے نہیں بلکہ زندہ کرنے کے لئے پیدا کیا ہے۔ہمارے سپرد یہ کام ہوا ہے کہ ہم محبت سے، پیار سے دنیا کے سارے انسانوں کے دل اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتیں۔اور اس طرح انہیں ایک نئی زندگی سے ہمکنار کرنے کا وسیلہ بنیں۔اصل میں تو یہ کام اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت اس کے فرشتے کر رہے ہیں اور فرشتے اجر و ثواب سے بے نیاز ہیں۔جب خدائی منشاء کے تحت اس کے منتخب بندوں کی تھوڑی سی کوشش فرشتوں کی کوششوں میں شامل ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کی کوششوں سمیت سارے کا سارا ثواب اپنے منتخب ہندوں کو دے دیتا ہے“۔حضور نے اس امر کو واضح کرنے کے لئے کہ ہمارے واسطے غلبہ اسلام کی مہم میں حصہ دار بنے اور اجر و ثواب کا مستحق قرار پانے کے لیے اپنی قربانی کے معیار کوکس حد تک بلند کرنا ضروری ہے، فرمایا:۔بہت خوش قسمت تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام۔انہوں نے جس صداقت کو قبول کیا تھا اور قربانی اور ایثار کے جس مسلک کو اپنے لئے پسند کیا تھا، اسے آخر دم تک نہیں چھوڑا۔اور ہر قسم کی قربانیاں دے کر اس پر دوام اختیار کئے رکھا۔جو برکات اور جو افضال و انعامات صحابہ کو ملے، وہی برکات اور وہی افضال وانعامات پانے کا آج ہمیں موقع دیا گیا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا ہے۔صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا لیکن یہ افضال و انعامات پانے کے لئے صحابہ والا اخلاص اور صحابہ والی فدائیت اور صحابہ والی قربانیاں ضروری ہیں۔یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم قربانیاں تو پیش نہ کریں اور پھر بھی صحابہ والے انعامات ہمیں مل جائیں۔ہر ایک جو خدائی افضال و انعامات کا وارث بنا چاہتا ہے، اسے قربانیاں دینی پڑتی ہے۔ہر ایک کو اپنے خاندان ، اپنے علاقے اور نوع انسان کے لئے ایثار دکھانا پڑتا ہے۔اس کے لئے وہ نور حاصل کرنے کی ضرورت ہے، جو صحابہ کرام نے حاصل کیا تھا۔جتنی روشن شاہراہ اسلام کے غلبہ کی ہمارے سامنے خدا نے رکھی ہے، اتنی ہی روشن شاہراہ اسلام کی نشاۃ اولیٰ میں صحابہ کے سامنے رکھی گئی تھی۔اگر ہمارے بچے اور ہمارے نوجوان اس حقیقت کو پہچان لیں اور اس کے مطابق اعمال بجالائیں تو انہیں اللہ تعالیٰ کا ایسا پیار حاصل ہوگا ، جو کبھی ختم نہ ہوگا“۔215