تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 214
خلاصہ خطبہ عید الفطر فرموده 07 اکتوبر 1975ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلسل ظاہر ہونے والے خوشیوں کے ان سامانوں پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔قدم بقدم آگے بڑھنا بھی ایک عید ہے۔اور اس قدم بقدم آگے بڑھنے کے نتیجہ میں درجہ بدرجہ جس نئی منزل پر ہم پہنچتے ہیں ، وہ بھی ہمارے لئے عید کے سامان لاتی ہے۔سو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے عید کی خوشی لانے والی ایک نئی منزل تک ابھی حال ہی میں ہم پہنچے ہیں۔اور وہ یہ کہ اللہ تعالی نے گوشن برگ میں سویڈن کی پہلی مسجد کا سنگ بنیاد رکھنے کی توفیق عطا فرما کر ہمارے لئے خوشی کا ایک نیا سامان کیا ہے۔اس کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں وہاں ایک خوشی پہنچائی۔اس کی نوعیت یہ ہے کہ اگر چہ سنگ بنیاد کی تقریب میں احمدی احباب سارے ہی یورپ سے آئے تھے ، تاہم گوٹن برگ میں ان احمدیوں کی تعداد زیادہ ہے، جو کبھی پاکستانی نہیں رہے اور نہ ہیں۔ان میں بعض یوگوسلاویہ کے رہنے والے بھی ہیں۔گوٹن برگ میں میرے قیام کے دوران اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں کے یوگوسلاوین باشندوں میں سے 14 نئی بیعتیں ہوئیں۔چھ مردوں اور آٹھ عورتوں نے بیعت کی۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے دوہری خوشی کا سامان کر دیا۔14 بیعتوں کی اطلاع پر مشتمل جو تاردی گئی تھی ، راستہ میں کسی نے اپنی خوشی کا سامان کرنے کے لئے 14 کے عدد کو چار میں بدل دیا۔ہمیں نئے احباب کے جماعت میں داخل ہونے کی خوشی ہوئی۔انہوں نے شامل ہونے والوں کی تعداد میں کمی کر کے اپنے لئے خوشی کا سامان کیا۔اللہ تعالیٰ انہیں بھی حقیقی خوشی نصیب کرے۔کیونکہ یہ تو حقیقی خوشی نہیں ہے کہ دوسروں کی تعداد کو از خود گھٹا کر خوش ہوا جائے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جماعت اسلام کی خدمت کی توفیق پارہی ہے اور اس کے نتیجہ میں حقیقی اسلام کی جڑیں ہر روز پہلے سے زیادہ مضبوط ہورہی ہیں۔اور یہی ہماری اصل خوشی ہے۔ہم جو آج خوش ہیں تو اس لئے نہیں ہیں کہ ہمیں حکم ملا ہے کہ اچھے کپڑے پہنو اور حسب توفیق اچھے کھانے کھاؤ بلکہ اصل خوشی تو خدا کی اطاعت میں ہے۔جب وہ کہتا ہے کہ خوش ہو تو ہم خوش ہوتے ہیں۔اس زمانہ میں اس نے کہا ہے کہ خوش ہو کیونکہ اسلام کے غلبہ کے دن آگئے ہیں۔پس ہم خوش ہیں، اس لئے کے خدا نے ہمیں خوش ہونے کا حکم دیا ہے اور اس لئے کے اس کی بشارتوں کے موجب غلبہ اسلام کے آثار دن بدن نمایاں ہورہے ہیں“۔214