تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 179
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطاب فرمودہ 31 مارچ 1974ء خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ فرمایا ہے کہ میرے پیار سے حصہ لینے کے لئے ، میری محبت کو پانے کے لئے ، میری رحمتوں کو بارش کی طرح اپنے پر برسانے کے لئے تمہیں کچھ ذمہ داریاں ادا کرنی پڑیں گی۔ہمیں اس کی فکر ہے۔چھپی ہوئی نحوستیں، چھپے ہوئے نفاق ، چھپی ہوئی بے ایمانیاں، چھپے ہوئے کفر کے جلوے دلوں کے اندر ہوتے ہیں، ایسی صورت میں جو بظاہر بڑی بڑی قربانیاں ہوتی ہیں ، وہ منہ پر ماردی جاتی ہیں اور قبول نہیں کی جاتیں ہمیں اس کی فکر ہے۔اس لئے میں کہتا ہوں اور ہمیشہ کہتا ہوں، اس منصوبے کے اجرا کے ساتھ بھی یہی کہا ہے کہ جہاں آپ دنیاوی لحاظ سے قربانیاں دیں، وہاں خدا تعالیٰ کے حضور جھکیں، روزے رکھیں، نوافل پڑھیں ، خدا کا ذکر کریں، اس کی تسبیح کریں، اس کی حمد کریں، اس سے مغفرت چاہیں، دشمن کے مقابلے میں اسی کو مضبوط اور طاقتور اور سرچشمہ طاقت سمجھیں، استغفار کریں، اسلام کے غلبہ کے لئے دعائیں کریں۔اور بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے ایک آگ آپ کے سینوں میں جل رہی ہو۔پس خدا تعالیٰ کے حضور جھک کر اس کی رحمت کو جذب کریں اور اپنی تدبیر کو کامیاب کریں۔ورنہ جب تک اللہ تعالیٰ کی رحمتیں آسمانوں سے نازل نہ ہوں، تدابیر کامیاب نہیں ہوا کرتیں۔پس دعاؤں کے ساتھ ، بے حد دعاؤں کے ساتھ ، مالی قربانیاں پیش کریں۔جہاں تک مخالفت کا سوال ہے، ہمیں قرآن کریم میں کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ تمہاری مخالفت نہیں ہوگی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کو پیار تھا، آپ سے پہلے جو ایک سلسلہ نبوت تھا، جو پہلے نبی وسلم سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام پر ختم ہو گیا، اس میں چھوٹے چھوٹے ملکوں میں اور بعض دفعہ شہروں میں بھی نبی آتے تھے، ان سب کو یہی کہا گیا کہ سوائے خدا کے کسی سے نہ ڈرنا۔تم اور میں (یا میں تم کے اندر اپنے آپ کو شامل کرتا ہوں۔) تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متبع ہو اور اس وقت تمہارا جو مہدی ہے، اس کے متعلق احمدیت سے پہلے بزرگوں نے کہا تھا کہ وہ تمام گزشتہ انبیاء سے افضل ہوگا، اس لئے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کال کامل ہے، آج تم اس کے متبع ہو۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے آگ جلائی گئی تھی اور وہ آگ میں کود گئے تھے۔میں یہ کہتا ہوں اور یہ بھی ٹھیک ہے اور خدا کا ایک نشان ہے کہ خدا کا ایک بندہ خدا پر اتنا تو کل کرتا تھا کہ وہ یہ سمجھتا تھا کہ اگر میں آگ میں جل جاؤں گا تو کیا ہوگا ؟ لیکن نہیں ! ابراہیم علیہ السلام آگ میں اس یقین کے ساتھ کو د گئے تھے کہ یہ آگ مجھے نہیں جلائے گی۔پس جماعت کے دوستوں سے میں یہ کہتا ہوں کہ یہ یقین تمہیں بھی دلایا گیا ہے۔اس یقین پر قائم رہیں۔تمہارے کانوں میں اس عظیم مہدی معہود کی یہ آواز پڑی ہے کہ خدا فرماتا ہے کہ آگ سے ہمیں مت ڈراؤ کہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔179