تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 178 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 178

خطاب فرمودہ 31 مارچ 1974ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم مطابق اس سارے منصوبے پر عملاً ساڑھے نو کروڑ یا بیس کروڑ ، جو اس میں آئے ، وہی نہیں خرچ ہوں گے، بلکہ اس میں جمع ہوگا، وہ ستائیس کروڑ روپیہ، جو آج کے حساب سے آپ کے بجٹوں میں آنا ہے۔لیکن ستائیس کروڑ نہیں، کیونکہ اس چھوٹے سے زمانہ میں جو میری خلافت کا زمانہ ہے، آپ کے چندہ عام اور آپ کے چندہ آمد ( یعنی موصی کے چندے) کی رقم سو فیصد سے بھی بڑھ گئی ہے۔یعنی دگنی ہوگئی ہے۔کل اس سلسلہ میں، میں مشاورت کی رپورٹ دیکھ رہا تھا تو 63ء میں ہمارے عمو صاحب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مشاورت میں ناظر بیت المال سے یہ پوچھا کہ آپ کے دونوں چندے سارے کتنے ہیں؟ تو آپ کو جواب دیا گیا کہ اٹھارہ لاکھ۔اور یہ جو آج کا بجٹ ہے، یہ سینتیس لاکھ کے قریب ہے۔سینتیس لاکھ کے قریب آمد اور حصہ وصیت ہے۔میں صرف اس کی بات کر رہا ہوں۔ویسے صدر انجمن احمد یہ کا کل بجٹ پینتالیس لاکھ کے قریب ہے۔تو اس حساب سے اگلے دس سال میں یہ پونے دو کروڑ ، جو آپ کا مجموعی بجٹ ہے، یہ ساڑھے تین کروڑ بن جائے گا۔اور اس طرح وہ ستائیس کروڑ نہیں بلکہ چالیس، پینتالیس کروڑ ہو جائے گا، جمع اس منصوبے کی رقم۔تو عملاً یہ پچاس، ساٹھ کروڑ کی رقم ہے۔لیکن میں نے پہلے بھی کئی دفعہ کہا ہے، پچھلے خطبے میں بھی کہا تھا، ایک خطبے میں غالباً لا ہور میں کہا تھا کہ سوال اڑھائی کروڑ کا، سوال پانچ کروڑ کا ، سوال نو کروڑ کا یا میں کروڑ کا نہیں ہے۔سوال اس رقم کا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس منصوبے کو کامیاب کرنے کے لئے چاہیے۔اور ہم اسے نہیں جانتے۔لیکن ہمارا خدا اسے جانتا ہے۔اس لئے میں نے اعلان کیا تھا کہ مجھے فکر نہیں ہے۔مجھے تو فکر ہے، اپنے اخلاص اور اپنے خدا سے پیار اور اپنی جماعت کی۔مجھے اس کی فکر ہے، جس خدا کے علم میں ہے کہ اس منصوبے کے کامیاب کرنے کے لئے کتنی رقم چاہیے؟ جو کہ اس کا اپنا منصوبہ ہے۔جس کا تعلق اس چیز سے ہے کہ سارے انسانوں کو اس نے اپنے پیار سے حصہ دینا چاہا ہے۔اس کو پتہ ہے کہ کتنی رقم چاہیے؟ کتنی دولت چاہیے؟ وہ خود اس کا انتظام فرمائے گا۔ہمیں اپنی فکر کرنی چاہئے۔کہا گیا تھا کہ ہمارے اونٹ ہیں، ہمیں اپنی فکر کرنی چاہئے۔جس کا مکہ (خانہ کعبہ ) ہے، وہ آپ ہی اس کی فکر کرے گا۔یہ منصوبہ خدا تعالیٰ کی مشیت سے جاری کیا گیا ہے، وہ آپ ہی اس کی فکر کرے گا۔(وہ بھی کہنے کی طرز ہے، باقی وہاں بھی فرق تو کوئی نہیں۔ہم بھی، میں اور تم خدا ہی کے ہیں۔لیکن ہم پر ذمہ داریاں ہیں کہ قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا (التحریم: 07) 178