تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 175
تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطاب فرمودہ 31 مارچ 1974ء تھا کہ ہم نے نئی صدی کا استقبال کرنا ہے۔نئی صدی کے استقبال سے میرا یہ مطلب ہے کہ جہاں تک میں نے غور کیا اور جہاں تک اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھ عطا فرمائی ہے، میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہماری زندگی کی ہماری حیات کی دوسری صدی، غلبہ اسلام کی صدی ہے۔اس وقت وہ حالات نہیں ہیں۔اگر دوسری صدی غلبہ اسلام کی صدی ہے تو اس پہلی صدی کا سواں سال جماعت احمدیہ پر اس طرح آئے اور سویں سال کے ختم ہونے تک جماعت احمدیہ کو اس طرح تیار کر دینا چاہیے کہ وہ جماعت کو اس عالمگیر کوشش کے قابل بنا دے، جو دنیا کو، نوع انسانی کو ، تمام ممالک کو، غرض یہ کہ ہر جگہ بسنے والے انسانوں کو تو حید خالص اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کر دے۔آج آپ اس قابل نہیں ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا تھا، سوزبانوں میں لٹریچر شائع کیا جائے گا۔کیونکہ اس منصوبہ میں اتنی وسعت نہیں ہے کہ وہ ساری دنیا کی زبانوں میں اسلام کا بنیادی لٹریچر یعنی بنیادی تعلیم پہنچا سکے۔میرے اندازے اور سوچ کے مطابق پہلی صدی کے آخر میں جماعت اس قابل ہوسکتی ہے اور جماعت کو اپنی کوششوں اور اپنی تدبیر اور اپنی دعا کے نتیجہ میں خود کو بحیثیت جماعت اس قابل بنادینا چاہئے کہ اگلی صدی میں ہم دنیا کو روحانی طور پر للکارتے ہوئے ، اسلام کو غالب کرتے ہوئے ، آگے سے آگے بڑھتے چلے جائیں۔پھر صرف سوزبانوں کا سوال نہیں ہوگا۔جب دوسری صدی شروع ہوگی تو ہماری کوششیں سو زبانوں میں محدود نہیں ہوں گی۔انشاء اللہ تعالیٰ۔اس وقت جماعت احمدیہ کی کوششیں دنیا کی ہر زبان میں دنیا کے ہر طبقہ کے لئے ہوں گی۔اس وقت جماعت احمدیہ کی کوششیں دنیا کے ہر ملک میں تیزی کے ساتھ اپنا کام کر رہی ہوں گی۔اس وقت کوئی کان اسلام کی بنیادی تعلیم، تو حید اور ختم نبوت سے نا آشنا نہیں رہے گا۔اس مقصد کے لئے جماعت کو تیار کرنا ہے۔پس یہ منصوبہ جماعت کو اس غرض کے لئے تیار کرنے کے لئے بنایا گیا ہے کہ جس وقت یہ صدی ختم ہو، جو تیاری کی صدی، جو بنیادوں کو مستحکم کرنے کی صدی ہے، جب یہ صدی ختم ہو اور جماعت خدا تعالیٰ کی رحمتوں سے ہشاش بشاش، اس کی راہ میں قربانیاں کرتی ہوئی ، دوسری صدی میں داخل ہو تو وہ اس قابل ہو کہ ساری دنیا کے کان میں اس کی یہ آواز پہنچ رہی ہو کہ اپنے پیدا کرنے والے رب کی طرف رجوع کرو۔ورنہ ہلاکت تمہارے سامنے کھڑی ہے۔یہ ہمارا مقصد ہے۔اور یہ وہی مقصد ہے، جو پہلے دن سے تھا۔اور جہاں تک مقصد کا سوال ہے، اس سلسلہ میں لجنہ اماءاللہ کی کوششیں، خدام الاحمدیہ کی کوششیں انصار اللہ کی کوششیں، فضل عمر فاؤنڈیشن کی کوششیں، نصرت جہاں ریز روفنڈ کی کوششیں، وقف عارضی کی 175