تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 176 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 176

خطاب فرمودہ 31 مارچ 1974ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم کوششیں، وقف جدید کی کوششیں، تحریک جدید کی کوششیں اور صدر انجمن احمدیہ کی کوششیں ایک ہی چیز ہیں۔ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔اور یہ منصوبہ جو ہے، اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ان تمام کوششوں کو اب ان راہوں کی طرف موڑ دے، جو جماعت کو اس قابل کر دیں کہ وہ دوسری صدی کا اس طرح استقبال کر سکے ، جس طرح کہ میں نے آپ سے بیان کیا ہے۔اس کی مثال یہ ہے کہ دریاؤں کو آپ دیکھتے ہیں کہ ایک دریا کئی شاخیں نکال رہا ہوتا ہے۔کوئی ادھر جا رہی ہے، کوئی ادھر جا رہی ہے۔اور اس کے پانیوں کے کئی پاٹ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ آگے جا کر ختم ہو جاتے ہیں۔اور پھر وہاں پانی نہیں ملتا۔اور کئی پاٹ ایسے ہیں کہ وہ پانچ پانچ ، دس دس میل کا چکر کاٹ کر پھر واپس دریا میں آجاتے ہیں۔پھر ایک جگہ بند بنایا جاتا ہے اور اس بند میں دریا کا سارا پانی ڈال دیا جاتا ہے۔اور پھر اس سے لاکھوں بلکہ کئی ملین کلو واٹ بجلی پیدا کی جاتی ہے۔یہ جو منصوبہ ہے، یہ ایک بند کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔اب جماعت کی ساری کوششیں اس بند کے اوپر آ کر اکٹھی ہوں گی۔اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے وہ طاقت GENERATE (جزیٹ) کرے گی، مہدی معہود کی اس مہم میں وہ طاقت پیدا ہوگی، جو ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔اور اس طرح پر جیسا کہ میں FORESEE کر رہا ہوں، جیسا کے میری | روح اسی یقین کے ساتھ دیکھ رہی ہے، جس طرح آج دن کو دیکھ رہی ہے۔وہ صدی ، غلبہ اسلام کی صدی ہوگی۔اس صدی میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے رحم سے اور اسی کی دی ہوئی توفیق سے اور اس کی طرف سے نازل ہونے والے فرشتوں کی مدد سے دنیا میں وہ انقلاب عظیم پیدا ہو جائے گا، جس انقلاب عظیم کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کومبعوث کیا گیا اور جس کے لئے چودہ سو سال سے زائد عرصہ میں جنگ لڑی گئی۔یہ ہمارا آخری معرکہ ہے۔یہ اس جنگ کا آخری معرکہ ہے۔پھر جنگ کے آخری معرکے کے بعد تو ثمرات کے اکٹھا کرنے کا وقت ہوتا ہے۔اور جب میں کہتا ہوں، غلبہ اسلام کی صدی تو میرا مطلب یہی ہوتا ہے کہ اس صدی میں ہم اسلام کے لئے دنیا کے کونے کونے سے پھل اکٹھے کریں گے اور انسان کا دل بحیثیت نوع انسانی توحید خالص سے پر ہو جائے گا۔اور وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور عرفان رکھے گا اور اس کی عظمت اور جلال کا جذبہ اس کے دل میں پیدا ہو گا۔وہ اس کے ساتھ ایسی ذاتی محبت رکھے گا، جو دنیا کے کسی عاشق نے اپنے محبوب سے نہ رکھی ہوگی۔اور پھر وہ حسین معاشرہ قائم ہو جائے گا، جس معاشرے کے لئے آدم سے لے کر آج 176