تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 144
خطاب فرمودہ 29 مارچ 1974ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم جاننا ضروری ہوتا تو رؤسائے مکہ، جو بڑی اچھی عربی جاننے والے تھے، وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت نہ کرتے۔پس محض عربی جاننا کافی نہیں ہے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کی زندگی میں اور پھر بعد میں جب تک مکہ پر خدا نے رحم نہیں کیا اور وہ مسلمان نہیں ہوئے ، یہ سارا زمانہ بتاتا ہے کہ انہوں نے عربی جاننے کے باوجود ہدایت کو قبول نہیں کیا۔بلکہ ان میں سے بہت سے غرباء مسلمان ہوئے ہیں۔لیکن یہ جو بڑے بڑے لوگ تھے اور عربی کے لحاظ سے ان کی زبانیں بڑی عمدہ تھیں، وہ مسلمان نہیں ہوئے۔پس جو غریب لوگ تھے اور جن کو عربی زبان روسائے مکہ جتنی نہیں آتی تھی ، وہ تو مسلمان ہو گئے لیکن یہ لوگ جوعربی زبان میں بڑے اعلیٰ درجے کے فصیح تھے ، ہدایت سے محروم رہ گئے۔اس سے ہماری ہی نہیں بلکہ ہر عقل مند کی عقل یہ نتیجہ نکالے گی کہ قرآن کریم کو پہچاننے اور اس کی عظمت کا دل میں احساس پیدا کرنے کے لئے صرف عربی کا جاننا کافی نہیں ہے۔اس کے لئے کچھ اور چیز کی بھی ضرورت ہے۔اور یہی سوچنے والی بات ہے کہ اور کیا چاہیے؟ اس کا جواب خود قرآن کریم میں موجود ہے، فرماتا ہے:۔لَّا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ عربی جاننے والی زبان کے علاوہ ایک پاکیزہ دل چاہیے۔جب زبان بھی آتی ہو اور دل بھی پاکیزہ ہو تو پھر قرآن کریم معنوی لحاظ سے رسائی کے قابل ہو جاتا ہے۔اس کے بغیر قرآن کریم کے معنی سمجھ میں نہیں آتے۔اس وقت ہمیں اس بحث میں الجھنا ہی نہیں چاہیے کہ ان کو عربی آتی ہے یا نہیں؟ ہم کہتے ہیں، ٹھیک ہے، تمہیں عربی زبان بہت اچھی آتی ہے، لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ جو تفسیر قرآنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ نوع انسانی کے ہاتھ میں دی گئی ہے، وہ تم نہیں جانتے۔اور تمہیں پتہ اسی وقت لگے گا، جب تمہارے سامنے ہم پیش کریں گے۔اس کے لئے میں سمجھتا ہوں کہ پانچ سال کے اندراندر بے شک مختصر ہو، عربی زبان میں تفسیر شائع کر دینی چاہیے۔اس کی بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عربی کلام ہونا چاہئے۔بڑی جلد بھی نہ ہو اور اتنی چھوٹی بھی نہ ہو۔اگر چہ بڑی جلد کا اپنا فائدہ ہے۔وہ سکالرز کے کام آسکتی ہے، جو دن رات لائبریری میں بیٹھ کر کام کرتے ہیں۔لیکن عربی میں مختص تفسیری نوٹس پر مشتمل پانچ ، چھ سو صفحات کی کتاب کافی ہے۔اور اپنے طور پر بھی عربی تفسیر زیادہ تفصیل کے ساتھ ان تک پہچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔پھر وہ ایک وقت میں آکر مجبور ہو جائیں، اس بات کو سوچنے پر کہ واقعہ میں قرآن کریم کے علوم سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے اور قرآن کریم کی طہارت اور پاکیزگی سے اپنے 144