تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 145 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 145

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطاب فرمودہ 29 مارچ 1974ء نفس اور دل کو پاکیزہ اور مز کی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے معنی اور تغییر سکھائی جائے۔اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سکھائی گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی جماعت کو وہ اصول بتائے گئے ہیں، جن کی بناء پراللہ تعالیٰ نئے سے نئے مضامین سکھاتا چلا جاتا ہے۔ہمارا علم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی برکت کے نتیجہ میں ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا علم اس عشق کے نتیجہ میں ہے، جو آپ کے دل میں خدا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سمندر کی طرح موجزن تھا۔آپ کی محبت خدا اور عشق رسول کیا تھا، وہ ایک ٹھاٹھیں مارنے والے سمندر کی مانند تھا، جس میں سے موتی نکلے۔وہ کسی اور کے ہاتھ میں نہیں آئے بلکہ صرف ہمیں حسب استطاعت ان سے حصہ ملا۔پس عربی تفسیر چار، پانچ سال کے اندراندر شائع ہو جانی چاہیے۔اسی طرح فارسی میں قرآن کریم کے معنی اور تفسیر یعنی تفصیلی نوٹ تفسیر صغیر سے بڑے اور تفسیر کبیر سے کم فارسی زبان میں چھپنے چاہئیں۔بہت بڑے علاقے فارسی بولنے والے ہیں یا بہت بڑے عالم ہیں، جو فارسی بھی جانتے ہیں۔وہ اس کو پڑھ سکتے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اسی طرح اردو میں ایک مختصر تفسیر جماعت کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔جس میں اصول بیان ہو جائیں اور انسانی دماغ آگے سوچنے پر مجبور ہو جائے۔ویسے تو یہ سمندر ہے، جو بھی ختم نہیں ہوتا۔اگر دنیا کے سمند رسیا ہی بن جائیں اور درختوں کی ٹہنیاں قلمیں بن جائیں ، تب بھی اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے لکھے نہیں جاسکتے۔قرآن کریم خدا کا کلام ہے، اس میں بھی وہی وسعت پائی جاتی ہے، جو اس کی خلق کے اندر پائی جاتی ہے۔بہر حال ایک مختصر تفسیر اردو میں شائع ہونی چاہیے، جو تفسیر صغیر سے بڑی ہو۔بڑے شرم کی بات ہے کہ تفسیر صغیر میں جو نوٹس دیئے گئے ہیں، اکثر لوگ ان سے بھی پورا فائدہ نہیں اٹھار ہے۔اس منصوبہ کی شق نمبر 3 ایک سوزبانوں میں اسلام کی بنیادی تعلیم کی اشاعت ہے۔یوں تو زبانیں دنیا میں کئی سو ہیں۔لیکن ہم نے ان میں سے ان کا انتخاب کرنا ہے، جو نسبتا آسان ہیں۔جو میٹی بنے گی ، وہ اس معاملہ میں غور کرے گی۔میں نے جب شوری کے لیے نوٹس لئے تو مجھے ایک اور خیال آیا کہ سورۃ فاتحہ خلاصہ ہے، قرآن کریم کا۔اس کی تفسیر تو نہیں۔البتہ سورۃ فاتحہ مع ترجمہ دنیا کی ہر زبان میں شائع کر دینی چاہیے۔ہو سکے تو ترجمہ ذرا لمبا ہو اور کچھ تفسیری نوٹ بھی اس کے اندر شامل ہو جائیں۔کوئی زبان رہ نہ جائے ، جس میں سورۃ فاتحہ مع ترجمہ شائع نہ ہو۔اس طرح ہر زبان بولنے والے کے ہاتھ میں قرآن کریم کا خلاصہ یعنی سورۃ فاتحہ پہنچ جائے گی۔145