تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 143 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 143

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطاب فرمودہ 29 مارچ 1974ء جنوبی امریکہ میں ٹرینیڈاڈ وغیرہ، دو جگہوں پر ہمارے مرکز قائم ہیں۔لیکن ارجنٹائن اور برازیل وغیرہ میں ہمارا کوئی مرکز نہیں ہے۔اس لئے جنوبی امریکہ میں دو مضبوط مراکز قائم کرنے ہیں۔اب یہ جو پروگرام ہے، اس سے ہمیں اس ضرورت کا احساس ہوتا ہے کہ ان علاقوں میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔کہیں فرانسیسی زیادہ بولی جاتی ہے، کہیں سپینش زبان زیادہ بولی جاتی ہے، کہیں افریقہ کی لوکل زبانیں بولی جاتی ہیں۔ہمیں اس کے مطابق اگلے سات سال کے اندر اندر کافی تعداد میں نئے مبلغ تیار کرنے ہوں گے، جو ان زبانوں کو جانتے ہوں۔اس کے لئے تیاری کرنی ہوگی اور انتظام کرنا ہوگا۔جہاں تک شق نمبر 2 کا سوال ہے، اس کا تعلق اشاعت علوم قرآنی سے ہے۔یہ شق پھر مختلف حصوں میں تقسیم ہوتی ہے۔ایک کام تراجم قرآن کا ہے۔اس وقت چھ زبانوں میں قرآن کریم کے ترجمے ہو چکے ہیں۔فرانسیسی میں ترجمہ ہو چکا ہے، وہ شائع ہو جانا تھا لیکن میں نے اس کور کو دیا تھا۔اب جہاں سے بھی جلدی چھپ سکتا ہو، وہاں سے چھپوانے کی کوشش کریں گے، ایک ڈیڑھ سال کے اندر۔اس کے علاوہ روسی ، چینی ، اٹالین، سپنیش، ہوسا، یوگوسلاوین اور انڈونیشین میں اس منصوبہ کے مطابق قرآن کریم کے ترجمے شائع کروانے ہیں۔ویسے تو ہماری خواہش ہے کہ اور زبانوں میں بھی ترجمے ہوں لیکن سردست ان زبانوں میں خاص طور پر اس عرصہ میں ترجمے کروا کے دنیا میں اشاعت کرنی ضروری ہے۔اور سواحیلی زبان میں ہمارا ترجمہ قرآن کریم چھپ چکا ہے۔اس کے علاوہ مشرقی افریقہ میں دو اور زبانوں میں قرآن کریم کا ترجمہ شائع کرنا ہے۔اسی طرح مغربی افریقہ میں ہو سا کے علاوہ بھی دوزبانوں میں ترجمے شائع کرنے ضروری ہیں۔دوسرا حصہ تفسیر قرآن سے متعلق ہے۔تفسیر قرآن کے متعلق میں نے بتایا تھا کہ جو مسلم ممالک ہیں اور مسلمان جو ساری دنیا میں رہتے ہیں، جہاں ان کا ایک حصہ عربی جانتا ہے، مثلاً نائیجریا میں بسنے والوں کا ایک حصہ تھوڑا اسہی مثلاً دو فیصد سہی لیکن وہ عربی جانتا ہے، اسی طرح غانا وغیرہ سارے ممالک میں عربی دان پائے جاتے ہیں اور ان میں سے کچھ احمدی ہو چکے ہیں۔مثلاً غا نا میں واہ کا علاقہ ہے۔وہاں ہمارے بہت سے احمدی دوست بڑی اچھی عربی جانتے ہیں۔چنانچہ میں نے ان کے سامنے عربی زبان میں تقریر کی تھی۔اس لئے میں نے جلسہ سالانہ پر یہ اعلان کیا تھا کہ اس عرصہ میں ہمیں عربی کی تفسیر شائع کر دینی چاہیے۔عربی بولنے والوں کے دماغوں میں یہ جہالت بھی ہوئی ہے کہ جس کو عربی آتی ہو ، وہ دوسر۔سے قرآن کریم کیوں سیکھے۔حالانکہ یہ بات غلط ہے۔ان کے لئے ترجمہ نہ مسیح لیکن تفسیر ضروری ہے۔ان کو بڑے پیار سے سمجھانا چاہیے کہ قرآن کریم کے سمجھنے اور اس کی عظمت کو پہچاننے کے لئے اگر صرف عربی 143