تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 606 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 606

خلاصه خطاب فرمودہ 28 اکتوبر 1979ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم کر کے اصلاح یافتہ معاشرہ بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔تیسری صفت یہ ہے کہ ان کی اصلاح کی غرض اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنا ہوتی ہے۔اور چوتھی صفت یہ ہے کہ ان کی اصلاح کی غرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنا ہوتی ہے“۔حضور نے فرمایا کہ نبی کریم کی اطاعت کے چار معنی ہیں۔یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر قرآن کے مطابق اپنی زندگی گزاریں، اس تفسیر کو مضبوطی سے پکڑے رکھیں ، اسوہ رسول کے حسن اور عظمت سے واقف ہوں اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اجتہاد فرمایا ہے، اس کو ہر دوسرے اجتہاد پر فوقیت دیں۔حضور نے سچے مومن کی پانچویں صفت یہ بتائی کہ ” جب اس کے سامنے اللہ کی آیات پڑھی جائیں تو اس کا دل خشیت اللہ سے بھر جائے اور چھٹی صفت یہ ہے کہ اللہ کی آیات کا ذکر اس کے ایمان کو بڑھائے“۔حضور نے فرمایا کہ آیات اللہ کا ایک مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہر خلیق اس کی آیت ہے اور دوسرا مطلب معجزات اور نشانات ہیں، جو انسان کو خدا تعالیٰ اپنی طرف راہبری کرنے کے لئے دکھاتا ہے۔حضور نے مومن کی ساتویں صفت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ سچا مؤمن صرف اللہ پرتوکل کرتا ہے اور باقی ہر ھنے کو لاھے محض سمجھتا ہے۔مومن کی آٹھویں صفت یہ ہے کہ وہ حقوق اللہ کی ادائیگی اس طرح کرتا ہے کہ اس کے دل میں کوئی کھوٹ اور غیر اللہ کی طرف کوئی رغبت نہیں ہوتی۔اور نویں صفت سچے مومن کی حضور نے یہ بیان فرمائی کہ وہ اللہ کی مخلوق کے سب حقوق ادا کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔حضور نے فرمایا کہ ایسے مومنوں کو اللہ تعالی بڑے بڑے مدارج بخشتا ہے، ان کی بخشش کا سامان کرتا ہے اور ان کو معزز رزق عطا کرتا ہے۔حضور نے بخشش کے حصول کے تین طریقوں کا بھی ذکر کیا۔جن میں اول: دعا ہے۔606