تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 297
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم خلاصہ خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جولائی 1976ء فرشتوں کے ذریعہ اس کی رحمت نازل ہوتی ہے۔مہدی علیہ السلام کا یہ قافلہ ( یعنی آپ کی جماعت ) اللہ تعالی کے فضل اور اس کی تائید و نصرت سے آگے ہی آگے قدم بڑھا رہا ہے اور انشاء اللہ آگے ہی آگے قدم بڑھاتا چلا جائے گا۔اللہ تعالیٰ آپ سب کی اور بیرونی ملکوں کی ان جماعتوں کی قربانیوں کو ، جنہوں نے اس مسجد کی تعمیر کے لئے رقم مہیا کی ، قبول فرمائے۔اور آپ کو اور انہیں اپنی رحمت سے نوازے۔اس مسجد کی تعمیر میں پاکستان کی جماعتیں اپنی خواہش کے باوجود بعض حالات کی بنا پر حصہ نہیں لے سکیں۔اگر ان کے لئے حصہ لینا ممکن ہوتا تو وہاں کی احمدی خواتین ہی اپنے چندوں سے یہ مسجد تعمیر کرا دیتیں۔جیسا کہ وہ پہلے بھی یورپ میں کئی مسجد میں تعمیر کرا چکی ہیں۔حضور نے قربانیوں کے مزید مواقع کا ذکر کرتے اور احباب جماعت کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ غلبہ اسلام کا کام کسی ایک وقت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔اور نہ اس کا تعلق کسی ایک نسل کے ساتھ ہے۔بلکہ یہ نسلاً بعد نسل چلتا چلا جائے گا اور قربانیوں کے مواقع پیدا ہوتے چلے جائیں گے۔اگر کوئی جماعت کسی موقع پر قربانیوں میں حصہ نہ لے سکے تو اس کے لئے خدا تعالیٰ مزید مواقع مہیا کر دے گا۔خدا کی راہ میں قربانیاں پیش کرنے والی کسی جماعت پر قربانیوں میں حصہ لینے کے دروازے ہمیشہ کے لئے کبھی بند نہیں کئے جاسکتے۔خدائی جماعتوں کی راہ میں روکیں پیدا ہوتی ہیں، ابتلاء آتے ہیں، لیکن اس لئے نہیں آتے کہ انہیں خدائی افضال کے حصول سے محروم کر دیں۔بلکہ وہ ان کے درجات بلند کرنے اور انہیں افضال و انعامات کا پہلے سے بڑھ کر مور د بنانے کے لئے آتے ہیں“۔بعدۂ حضور نے سویڈن اور ناروے میں (جن میں سے اول الذکر میں حال ہی میں مسجد کی تعمیر مکمل ہوئی ہے اور مؤخر الذکر میں مسجد تعمیر کرنے کا ارادہ ہے۔) تبلیغ اسلام کی مساعی اور ان کے نتائج کا رو ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔سویڈن اور ناروے کی جماعتوں میں ایک بنیادی فرق ہے۔سویڈن کی جماعت میں پاکستانی احمدیوں کی تعداد صرف دس فیصد ہے۔باقی وہاں کے اصلی باشندے ہیں یا ان یورپین ملکوں کے باشندے ہیں، جو اپنے ملک میں کمیونسٹ انقلاب آنے کے بعد وہاں سے نقل مکانی کر کے سویڈن میں آکر آباد ہو گئے ہیں۔اور ان میں سے بہت سوں نے یہاں آ کر جماعت احمدیہ میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔برخلاف اس کے، ناروے کی جماعت زیادہ تر پاکستانی احمدیوں پر مشتمل ہے۔ناروے میں اسلام قبول کرنے کی رو ابھی نہیں چلی۔جبکہ یہ روسویڈن میں چل پڑی ہے۔وہاں کے یورپین نژاد احمدی تو کہتے ہیں کہ اگر ضروری وسائل میسر آجائیں تو چند سال میں ہی لاکھوں گھر ا نے احمدیت میں آسکتے ہیں“۔297