تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 697
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرموده 09 اکتوبر 1970ء ہے ہی نہیں۔اور دنیا کی طاقتوں کے مقابلہ میں ہمارے پاس کوئی طاقت نہیں ہے۔اور دنیا کی تدبیروں کے مقابلہ میں ہماری تدبیر نہایت ہی عاجز اور کمزور ہے۔اور جہاں تک ہماری ذات اور ہمارے نفس کا تعلق ہے، ہمیں اس احساس کو اپنے دلوں میں زندہ اور قائم رکھنا چاہئے کہ ہم لاشئی محض ہیں اور انتہائی طور پر عاجز ہیں۔اگر وہ ذمہ داری جو ہم پر ڈالی گئی ہے، اس کا کروڑواں حصہ بھی ہم پر ذمہ واری ہوتی۔تب بھی ممکن نہیں تھا کہ ہم اس ذمہ داری کو اپنی طاقت سے نبھا سکتے۔لیکن یہاں تو اس سے کہیں زیادہ ہم پر ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔یہ کوئی سہل اور آسان کام نہیں کہ تمام بنی نوع انسان کے دلوں کو خدا اور اس کے رسول کی محبت سے بھر دیا جائے اور اس طرح پر اسلام کی حجت کو ان پر پورا کر دیا جائے۔تیسری بات جو یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں بتائی ہے، یہ ہے کہ جہاں ہمارے دلوں میں عاجزی اور بے کسی اور بے مائیگی کا احساس ہو اور شدت کے ساتھ زندہ احساس ہو، وہاں ہمیں اس بات پر پختہ یقین رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ تمام قدرتوں کا مالک اور سرچشمہ ہے۔اور کوئی چیز اس کے سہارے کے بغیر قائم نہیں رکھی جاسکتی۔اور نہ اس کی مدد اور نصرت کے بغیر حاصل کی جاسکتی ہے۔کمزور تو ہیں ہم لیکن اگر ہمارا زندہ تعلق اپنے رب کریم سے پیدا ہو جائے تو ہم محض اس کی مدد اور نصرت کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کے قابل ہو سکتے ہیں۔یہاں ایک اور بات بتائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مد داور نصرت کے حصول کے لئے حقیقی دعا کی ضرورت ہے۔ہم دعا کے بغیر اللہ تعالیٰ کی مدداور نصرت کو حاصل نہیں کر سکتے۔اس لئے جو دعا نہیں کرتا ، وہ اپنے بے نیاز اور غنی خدا سے دور رہتا ہے۔جو اس کی پرواہ نہیں کرتا، اللہ بھی اس کی پرواہ نہیں کرتا۔دعا حقیقی ہونی چاہئے ، دعا اپنی تمام شرائط کے ساتھ ہونی چاہئے۔لیکن دعا ہونی چاہئے۔اس کے بغیر اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت کو حاصل نہیں کیا جاسکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعا کے مضمون پر بڑی تفصیلی اور گہری بحث کی ہے۔ایک فلسفی دماغ کو بھی سمجھانے کی کوشش کی ہے اور ایک عام انسان کو بھی یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّ لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ ( سورة فرقان : 78) کہ جب تک تم دعا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو پختہ نہیں کروگے اور اس کی قدرت اور طاقت کو جذب نہیں کرو گے ، اس وقت تک اللہ تمہاری مدد نہیں کرے گا۔اور جب اللہ تمہاری مدد نہیں کرے گا تو تم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔697