تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 698
خطبہ جمعہ فرموده 09 اکتوبر 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مختصری دعا میں ہم پر یہ واضح کیا ہے کہ اگر ہم اپنے مقصد کو پہچانتے ہیں، جو یہ ہے کہ حجت اسلام ساری دنیا پر پوری ہو جائے۔اگر ہم اپنے نفس کی عاجزی اور بے کسی کا احساس رکھتے ہیں، اگر ہم اپنے رب کی کامل طور پر معرفت رکھتے ہیں کہ جس کے نتیجہ میں انسان یہ سمجھتا ہے کہ جوتی کا تسمہ ہو یا تمام دنیا میں حجت اسلام کو پورا کرنا ہو، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر نہیں ہوسکتا۔اس لئے ہر دم اور ہر آن اپنی بقا اور اپنی جدو جہد میں کامیابی اور مثمر ثمرات ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ کی قوت اور اس کی طاقت اور اس کی مدد و نصرت کی ضرورت ہے۔اس لئے آج میں پھر اپنے بھائیوں اور بہنوں کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ دعاؤں کی طرف بہت متوجہ ہوں اور عاجزانہ طور پر اور عاجزی کے اس احساس کو شدت کے ساتھ اپنے دل میں پیدا کر کے اور سوز و گداز کے ساتھ اور ایک تڑپ کے ساتھ محبت ذا یہ الہیہ کی آگ کے شعلوں میں داخل ہو کر وہ اپنے رب کے حضور پہنچنے کی کوشش کریں۔تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے پیار کے پانی سے اس تپش محبت کو ٹھنڈا کر دے اور سرور محبت عطا فرمادے۔ہمارے دلوں ، دماغوں اور روح میں سرور پیدا کرے۔اور اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کرے کہ وہ مقصد جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا ہے اور جس کی ذمہ داری آج ہمارے کندھوں پر ہے، ہم اس مقصد کے حصول میں کامیاب ہو جائیں۔دنیا نمیں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتی ، ہم سے مخالفت سے پیش آتی ہے۔ہمیں اس کی پرواہ نہیں۔جس چیز کی ہمیں پرواہ ہے، وہ یہ ہے کہ ہم اللہ تعالی کی نگاہ میں عزت کو پائیں۔دنیا ہیں پہچانتی نہیں اور چونکہ وہ ہمیں پہچانتی ہیں، اس لئے ہزار قسم کے جھوٹ ہمارے خلاف بولے جارہے ہیں۔ہر شخص اس بات پر فخر محسوس کرتا ہے کہ وہ ہمارے خلاف زبان دراز کرے۔اور ہمارے خلاف جتنا چاہے، جھوٹ بولے۔اور دنیا کی سب طاقتیں ہمارے خلاف مجتمع ہوگئی ہیں اور اکٹھی ہوگئی ہیں۔وہ چاہتی ہیں کہ اسلام غالب نہ ہو۔لیکن خدا چاہتا ہے کہ اسلام غالب ہو۔یہ عیسائی اور یہ مشرک اور یہ دہر یہ اپنے ان منصوبوں میں کامیاب نہیں ہو سکتے کہ اسلام کو مغلوب کر دیں اور مغلوب رکھیں۔اسلام ان پر ضرور غالب آئے گا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر یہی فیصلہ کیا ہے۔لیکن زمین پر اس نے ہم پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ ہم دعا اور تدبیر کو کمال تک پہنچا کر خدا تعالیٰ کے ان وعدوں کو اپنے نفسوں میں اور اپنی زندگیوں میں پورا کرنے کی کوشش کریں۔ہم تو صرف اس حد تک کر سکتے ہیں، جس حد تک اللہ تعالیٰ نے ہمیں ذرائع اور اسباب عطا کئے ہیں، ہم اس سے زیادہ نہیں کر سکتے۔لیکن دعا بھی ایک تدبیر ہے۔ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے دعا کو اس کے کمال تک پہنچانے کی قدرت رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہم میں سے ہر 698