تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 696
خطبہ جمعہ فرموده 09اکتوبر 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم کھول دے۔اور ہمیں وہ وقت دکھا کہ باطل معبودوں کی پرستش دنیا سے اٹھ جائے اور زمین پر تیری پرستش اخلاص سے کی جائے اور زمین تیرے راست باز اور موحد بندوں سے ایسی بھر جائے ، جیسا کہ سمندر پانی سے بھرا ہوا ہے۔اور تیرے رسول کریم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور سچائی دلوں میں بیٹھ جائے۔آمین۔اے میرے قادر خدا! مجھے یہ تبدیلی دنیا میں دکھا اور میری دعائیں قبول کر جو ہر یک طاقت اور قوت تجھ کو ہے۔اے قادر خدا! ایسا ہی کر۔آمین ثم آمین۔تتمہ حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 603) ان اقتباسات میں جو ابھی میں نے پڑھ کر سنائے ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ آپ کی بعثت کی غرض یہ ہے کہ اسلام کی حجت تمام مخالفین اسلام پر پوری ہو۔اور اس کے نتیجہ میں وہ اسلام کے حسن اور خوبیوں کو جاننے اور پہچانے لگیں۔اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی حقیقی توحید انسانوں کے دل میں پیدا ہو جائے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور آپ کے حسن و احسان کے جلوے بنی نوع کے دل منور کریں اور پھر آپ نے اپنے متبعین کے لئے دعا فرمائی ہے، جو اس کام میں آپ مددگار اور معاون بنیں۔حجت اسلام بنی نوع انسان پر پوری کرنا، آسان کام نہیں ہے۔دنیا اسلام کے حسن اور اسلام کے احسان سے واقف نہیں۔لوگ اللہ تعالیٰ کی توحید پہچانتے ہی نہیں یا اس کی معرفت ہی نہیں رکھتے۔اللہ تعالیٰ کے منکر ہیں یا اس کو بے بس اور کمزور سمجھتے ہیں۔اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسی عظیم ہستی سے انہیں پیار نہیں۔دنیا اللہ اور اس کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہے۔ہزار بدظنیاں ہیں، ہزار جہالتیں ہیں، جو غلط خیالات اور غلط تصورات دل میں جماتی ہیں۔تعصبات ہیں، یہ احساس ہے کہ انہیں سننے اور سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔اسلام کو کمزور کرنے اور اس کے حسن کو چھپانے کے لئے بے شمار منصوبے بنائے جاتے ہیں۔تمام دنیا کی طاقتیں اسلام کے مقابلہ پر اکٹھی ہو گئی ہیں۔ہمارے دل میں بنی نوع کی محبت ہے۔اس لئے ان کو جہنم کی آگ سے بچانا بڑا اہم اور بڑا ضروری ہے۔ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے غلام ہیں، ہمیں چاہئے کہ ہم آپ کی بعثت کی غرض کو پورا کرنے کے لئے اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کرنے والے ہوں۔جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں خبر دار کیا ہے کہ ہم عاجز اور کمزور ہیں، ہمیں اپنی ذات پر یا اپنی طاقتوں پر یا اپنے علم پر یا اپنی فراست پر یا اپنے جتھے پر بھروسہ نہیں رکھنا چاہئے۔کیونکہ ظاہری لحاظ سے دنیا کی دولت کے مقابلہ میں ہمارے پاس دولت تو یوں کہنا چاہئے ، 696