تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 781
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرموده 29 اکتوبر 1971ء کمزوری یا کوئی شیطانی کیڑا بھی ہو، تب بھی اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے ان کیٹروں کو مار دے گا اور ان کمزوریوں کو کی دور کر دے گا اور تمہاری پیشکش کو قبول کر لے گا۔اس رنگ میں کہ تمہیں زیادہ سے زیادہ ثواب عطا فرمائے گا۔پھر محض چندے لکھوا دینا بھی کافی نہیں۔جماعت کا ایک حصہ ایسا ہے، جو کمزوری دکھاتا ہے۔بعض دوستوں کے تو حالات بدل جاتے ہیں۔مثلاً یہ چالیس آدمی جن کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے، انہوں نے ایک وقت میں ہزار روپے فی کس دیئے تھے مگر اب نہیں دے سکے۔ان کا عذر معقول بھی ہوگا۔اور میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں حسن ظنی ہی سے کام لینا چاہیے۔لیکن بعض آدمی ایسے بھی ہیں ، جو وعدے لکھوا دیتے ہیں مگر پھر پورا نہیں کرتے۔اور ان کی وجہ سے وعدے اور اصل آمد میں فرق پڑ جاتا ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مثلاً آپ نے اپنے کاموں کا منصوبہ تو شروع سال میں ان وعدوں کے مطابق بنایا، مثلاً پانچ لاکھ روپے کی بادس لاکھ کی یا میں لاکھ روپے کی آمد ہوگی اور اس کے مطابق ہم فلاں فلاں کاموں پر خرچ کریں گے۔لیکن اگر دوران سال اتنے پیسے نہیں آتے تو آپ کے کاموں پر اثر پڑے گا۔کام کی رفتار میں کمی آ جائے گی اور کسی قوم کا بحیثیت قوم عزم کر لینا اور پھر پورا نہ کرنا ، بڑی ہلاکت کا موجب ہوتا ہے۔جب تک ایسے لوگ تعداد میں تھوڑے سے ہیں، اس وقت تک تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔لیکن اگر خدانخواستہ یہ ایک رو جاری ہو جائے تو اس سے بڑا فرق پڑ جاتا ہے۔پس محض دعوی بے معنی ہے۔جب تک کہ مخلصانہ عمل شامل حال نہ ہو۔اس سے کہیں بہتر ہے کہ ایسا شخص ، جس کی نیت نہیں ہے دینے کی ، وہ وعدہ ہی نہ کرے۔لیکن جس کی نیت ہے دینے کی مگر بعد میں اس کے حالات بدل جاتے ہیں، جس پر اس کا کوئی اختیار نہیں، وہ زیر الزام نہیں آتا۔اللہ تعالیٰ ایسے بھائیوں اور بہنوں کے حالات درست کرے اور ان کے مالوں میں اور بھی زیادہ برکت ڈالے۔لیکن جس شخص کی پہلے دن سے دینے کی نیت نہیں ، صرف دعوی ہے، وہ اپنے آپ کو دوہری مصیبت میں ڈال رہا ہے۔اور استغفار کے علاوہ اس کے بچے کا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔پس ایسے لوگوں کواستغفار کرنا چاہیے اور وعدہ نہیں کھانا چاہیے۔اللہ تعالیٰ کا مال ہے، وہ تو دیتا چلا جارہا ہے۔آگے سے بڑھ کر دیتا چلا جارہا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ پچھلے پانچ سال میں جماعت کی آمد مجموعی طور پر تین گناسے زیادہ بڑھ گئی ہے۔یہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے۔اس میں نہ میری کوئی خوبی ہے اور نہ آپ کی کوئی خوبی ہے۔یہ حض اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہے۔پس دینے والا تو بڑا دیا لو ہے۔لیکن اپنے دلوں میں فتور پیدا کر کے ہم میں سے بعض خدا تعالیٰ کے ثواب اور اس کے پیار سے محروم ہو جاتے ہیں۔اس لئے وہ راہیں، جو اللہ تعالیٰ کو غصہ دلانے والی ہیں ، 781