تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 782
خطبہ جمعہ فرمودہ 29 اکتوبر 1971ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم سے تم ان راہوں پر نہ چلو۔اور جن راہوں کو تم اس کی رضا کے لئے اختیار کرتے ہو، ان راہوں پر جوش اور ہمت اور اخلاص کے ساتھ چلو۔تا کہ اپنے تو کل اور اپنی نیت اور اپنے اخلاص کے نتیجہ میں تم اللہ تعالیٰ اس کے اس پیار کو حاصل کر لو ، جس پیار کو دینے کے لئے اس نے اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو امت محمدیہ میں مبعوث فرمایا ہے۔کیونکہ یہی پیار در حقیقت دنیا کے لئے نمونہ بنتا ہے۔آج غلبہ اسلام کی جو خوشبو ہم سونگھ رہے ہیں ، وہ ہماری قربانیوں کا نتیجہ نہیں ہے۔بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس پیار کا نتیجہ ہے، جو جماعت سے وہ کرتا ہے۔اور وہ خوشبو اللہ تعالیٰ کی محبت کے عطر کی خوشبو ہے۔دنیا جب اسے سونگھتی ہے تو اس طرف متوجہ ہوتی ہے۔دنیا کی آنکھ جب معجزانہ پیار کو مشاہدہ کرتی ہے تو لوگوں کا دل اس طرف مائل ہوتا ہے۔اور وہ سمجھتے ہیں کہ واقعہ میں اللہ تعالیٰ ہے اور واقعہ میں اسلام خدا تعالیٰ کی طرف سے قائم رہنے والی شریعت ہے۔جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی تھی۔پس ہمیں چاہیے کہ ہم شریعت محمدیہ کی برکتوں سے حصہ لینے کے لئے وہ سب کچھ کریں، جو خدا تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے۔اللہ تعالیٰ پر اس کی تمام صفات کے ساتھ ایمان لائیں۔اس کو ہر قسم کے عیب سے اور تمام کمزوریوں سے اور سب نقائص سے مبراسمجھیں اور حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء یقین کریں۔قرآن کریم کی شریعت کو ابدی اور دائی شریعت مانیں کہ جس میں ہر قسم کا روحانی اور جسمانی حسن پایا جاتا ہے۔اور جس کے اندر ہر قسم کے احسان کی طاقت پائی جاتی ہے۔پس اس کتاب کو مہجور کی طرح چھوڑتے ہوئے اس پر ایمان نہ لائیں۔بلکہ اس کتاب پر اس کی تمام صفات کو سمجھتے ہوئے اور اس سے برکتیں حاصل کرنے کی نیت سے ایمان لائیں۔دنیا خدا تعالیٰ کے پیار کا نشان دیکھ کر خدا تعالیٰ کی طرف مائل ہوتی رہی ہے اور آج بھی دنیا خدا تعالیٰ کے پیار کا نشان دیکھ کر اللہ تعالیٰ اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مائل اور متوجہ ہورہی ہے۔ہم مختلف ذرائع سے اور مختلف راہوں پر چل کر اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر رہے ہیں۔پس چاہیے کہ میں اور آپ سب اللہ تعالیٰ کے پیار کی تمام راہوں پر چل کر سارے ہی پیار کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔اور اللہ تعالٰی ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔اور آپ کو تحریک جدید کی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور انہیں نبھانے کی توفیق بخشے۔اور پھر آپ نے اللہ تعالیٰ پر جو تو کل کیا اور اللہ تعالٰی سے جو امیدیں باندھیں ، خدا کرے کہ ہماری کمزوریوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت باری ان امیدوں کو پورا کرے۔اور میں اور آپ ہم سب اس کے پیار کو پانے والے ہوں۔اللهم آمین“۔( مطبوعه روز نامه الفضل 09 نومبر 1971ء) 782