تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 640 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 640

اقتباس از خطاب فرموده 30 اگست 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اڑھائی اور تین ہزار پاؤنڈ سالانہ آمد ہے۔جس سے ان کے حصہ میں 1/4 کے لحاظ سے قریباً ڈیڑھ ، دو ہزار پاؤنڈ آتا ہے۔اور اس طرح ان کا 140 پاؤنڈ سے بھی زیادہ بن جاتا ہے۔لیکن ہمارا جو مطالبہ ہے، وہ یہ ہے کہ ڈاکٹر بڑا تخلص ہونا چاہئے اور بڑا دعا گو ہونا چاہئے۔کیونکہ وہاں اس وقت ہمارا عیسائیوں سے سخت مقابلہ ہے۔وہ بہت پیسہ خرچ کرتے ہیں، انہوں نے بڑے اچھے ہسپتال بنارکھے ہیں، جن میں کوالیفائیڈ ڈاکٹر ز کام کرتے ہیں۔لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ان کے مقابلے میں جہاں بھی ہمارا کلینک کھلا ہے، زیادہ مقبول ہو گیا ہے۔ہمارے کلینک کی اس حد تک مقبولیت ہو چکی ہے کہ ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب کا نو میں ہیں۔یہ علاقہ نائیجیریا کا مسلم نارتھ کہلاتا ہے۔انہوں نے مجھے بتایا کہ بعض وزراء تک گورنمنٹ ہسپتال میں جانے کی بجائے ان کے پاس آتے ہیں۔حالانکہ ایک وزیرکوان کے کسی دوست نے کہا کہ گورنمنٹ ہسپتال موجود ہے، آپ وہاں نہیں جاتے اور ان کے کلینک میں چلے جاتے ہیں۔(اس وقت تک یہ کلینک تھا، اب تو اچھی خوبصورت عمارت پر مشتمل ہسپتال بن چکا ہے۔اس نے کہا کہ مجھے وہاں زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔چنانچہ وہ اپنا اور اپنے رشتہ داروں کا علاج ہمارے ہسپتال میں آکر کراتا ہے۔شاید ظاہری علمیت کے لحاظ سے عیسائی زیادہ اچھے ہوں گے لیکن وہ دعا کرنے والے نہیں۔اور ہمارے ڈاکٹروں کے مقابلے میں ان کی کم از کم دعا قبول نہیں ہوتی۔ویسے تو اللہ تعالیٰ سب کی دعائیں قبول کرتا ہے لیکن جب مقابلہ ہو جائے تو احمدی ڈاکٹر کے ہاتھ میں بہر حال زیادہ شفا ہے۔دوسرے ہمیں وہاں ایسا ڈاکٹر چاہئے، جو ہمیں حساب کے جھمیلوں میں نہ پھنسائے۔اس وقت تک ان تینوں ڈاکٹروں یعنی کا نو میں ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب، لیگوس میں ڈاکٹر عمر الدین صاحب سدھو اور یہاں گیمبیا میں ڈاکٹر سعید صاحب نے اس سلسلہ میں بھی بہت ہی اچھا نمونہ دکھایا ہے۔یہ ہر مہینہ کے آخر میں اپنے مبلغ انچارج کو کہتے ہیں کہ اتنی رقم Not Saving کی ہے، آپ لے لیں یا میں بھجوا دوں۔یا اگرا کا ؤنٹ کھلا ہوا ہو تو وہ خود وہاں جا کر جمع کروادیتے ہیں۔ہم ان سے ایک سرسری سا حساب تو لیتے ہیں لیکن ہمیں یہ فکر نہیں ہوتی کہ یہاں کوئی غیر مخلصانہ اقدام بھی کیا گیا ہو گا۔وہ اپنی اپنی جگہ بڑے اخلاص سے کام کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں بہترین جزا عطا فرمائے۔جو ڈاکٹر وہاں جانا چاہیں، وہ وقف ہوں گے۔البتہ ان کے لئے یہ ضروری نہیں ہوگا کہ وہ ساری عمر کے لئے زندگی وقف کریں۔مثلاً چھ سال کے لئے وقف کر سکتے ہیں اور اس کے بعد ہمارے ساتھ Clash کئے بغیر اگر انہی ملکوں میں اپنی پریکٹس کرنا چاہیں تو کوئی ہرج نہیں، بڑی خوشی سے کریں۔ہمیں تو 640