تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 619 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 619

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 31 جولائی 1970ء ناکارہ سپاہی تو کہلا سکتے ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس فوج کا، جو آج ساری دنیا سے برسر پیکار ہے، روحانی اور علمی لحاظ سے۔لیکن تمہیں کار آمد وجود اس فوج کا نہیں کہہ سکتے تمہیں اپنا تعلق اپنے پیدا کرنے والے رب سے مضبوط کرنا پڑے گا اور اپنی ساری طاقت اس سے حاصل کرنی پڑے گی۔اور اپنے نفس کو مارنا پڑے گا اور ایک نئی زندگی اس سے پانی پڑے گی ، جب تم جا کر اس میدان میں فتح حاصل کر سکتے ہو۔ورنہ نہیں کر سکتے۔تو ہمارے جو مبلغ ہیں اور رضا کار ہیں، ان کو اس طرف توجہ دینی چاہئے۔ورنہ ان کا وجود ایک ناکارہ وجود ہے، بے ثمر وجود ہے، جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا اور نہ ہی نکل رہا ہے۔ایسے جو ہیں۔لیکن اگر اللہ تعالیٰ سے ہمارا پختہ تعلق ہو اور اگر ساری طاقتوں کا منبع اور سر چشمہ ہم اس ذات کو سمجھیں اور اس کے حضور عاجزانہ جھک کر اور اپنے پر ایک موت وارد کر کے اس کو کہیں کہ اے خدا! ہمارا کچھ نہیں ، ہماری زندگی بھی نہیں ، ہم ایک مردہ لاشہ کی طرح ہیں۔ہم تیرے دین کے غلبہ کے لئے اپنی خدمات کو پیش کرتے ہیں۔تو ہمیں نئی زندگی اور نئی طاقت اور نئی فراست کے نور سے ہمارے سینوں کو بھر دے۔اور ہم میں وہ برکت ڈال، جس برکت کا تو نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روحانی قوت کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدہ کیا۔اگر اس طرح ہم اللہ تعالیٰ سے زندہ تعلق کو پیدا کر سکیں اور ساری طاقتیں اس کے قدموں میں پھینک کر اس سے طاقت حاصل کریں تو ہم کامیاب ہو سکتے ہیں۔ورنہ ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔تو جو نئے آنے والے ہیں ، ان کو بھی میری یہ نصیحت ہے اور جو پرانے آئے ہوئے ہیں، ان کو بھی میں یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ تمہارے اندر کوئی ایسی طاقت نہیں ہے کہ تم عظیم جہاد میں کامیاب جرنیل ثابت ہو سکو۔اگر تم نے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا اور دنیا میں اپنے مقصود کو پانا ہے اور اگر تم چاہتے ہو کہ واقع میں اسلام دنیا میں غالب آجائے تو اپنے اوپر ایک موت وارد کر کے اپنے رب سے ایک نئی زندگی پاؤ۔تب تم واقع میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی جنت کو بھی پاؤ گے اور دنیا میں آنے والی نسلیں تمہیں عزت اور احترام کے ساتھ یاد کریں گی۔ورنہ جس طرح دنیا ابی ابن سلول کو نہیں بھولی تم میں سے بعض کو نہیں بھولے گی۔خواہ وہ اپنے زعم میں خود کو کتنا ہی قابل عزت اور قابل احترام بھی نہ سمجھتا ہو۔اس طرح تمہیں بھی یادر کھے گی۔لیکن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی طرح، ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی طرح، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی طرح تمہیں یاد نہیں رکھے گی۔اس سے بڑھ کر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرح، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرح، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی 619