تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 618
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 31 جولائی 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اور اللہ تعالیٰ کا بڑا افضل دیکھتا ہوں کہ جماعت کی بڑی بھاری اکثریت نے انتہائی فدائیت اور جاں نثاری کا ثبوت دیا ہے، جانی میدان میں بھی اور مالی میدان میں بھی۔ایک مہینہ نہیں گزرا، ابھی پہلے سترہ دن میں تو سترہ لاکھ روپیہ (نصرت جہاں ریز روفنڈ ) میں ہو گیا تھا۔اور جتنے ٹیچر چاہئے تھے، ان سے زیادہ ہمارے پاس آگئے ہیں۔اور ڈاکٹروں کی کچھ کمی تھی ، وہ پوری ہو گئی۔اور مالی لحاظ سے بھی، ٹیچر بھی اور دوسرے بھی۔لیکن جس قسم کی مذہبی جنگ جو دلائل اور آسمانی نشانوں کے ساتھ لڑنی اور جیتی ہے، اللہ کے فضل سے اس کی توفیق سے، اس کے لئے پتہ نہیں کل کو کتنے آدمیوں کی ضرورت ہوگی ؟ ڈاکٹروں کی ضرورت ہوگی، ٹیچر اور مبلغین کی بھی۔اور یہ تو یقینی بات ہے، جس قسم کے اس وقت ہمارے پاس ہیں ، ان سے زیادہ مخلص فدائی اور جنونی آدمی ہمیں چاہئیں۔ہمارا نظام رٹ کے اندر جس کو کہتے ہیں ، رستہ بنایا ہوا ہے، پہیہ اس میں پڑ گیا ہے۔حالانکہ ہمارا ماحول اور ہماری ضرورت اور ہمارے مخالف کا جو طریق جنگ ہے، ہمیں اس رٹ سے پہیہ اس نشان سے باہر نکالنا ہے۔اور ہم نے دفاع نہیں کرنا کیونکہ دفاع کا وقت گزرگیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود میں ہزار سے زیادہ اعتراض عیسائیوں کے اکٹھے کئے اور ان کا جواب دیا۔اب عیسائی جو ہے، وہ اپنا دفاع کر رہا ہے اور ہم اس کے اوپر حملہ آور ہیں۔اور اس حملہ میں ہماری وہ فراست ہونی چاہئیے ، جو دوسری جنگ میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ میدان جنگ میں دکھایا کرتے تھے۔اس قسم کی فدائیت چاہئے۔آدمی حیران ہو جاتا ہے کہ بعض دفعہ ایسی جھڑ ہیں ہوئیں کہ مسلمان چار ہزار اور دشمن سولہ ہزار اور بہر حال ان کو زیادہ قربانی اس لحاظ سے بھی دینی پڑتی تھی کہ ان کی تو با ہیں شل ہو جاتی تھیں۔وہ دشمن چار ہزار پیچھے ہٹا لیتے تھے اور تازہ دم چار ہزار لڑنے کے لئے آگے بھیج دیتے تھے۔تو چاروں ٹکڑیوں کے ساتھ ایک ٹکڑی کوٹڑ نا پڑتا تھا کیونکہ وہ ان سے چار گنے زیادہ تھے۔اس کے باوجود تاریخ لکھتی ہے کہ قریباً ساری رات وہ قرآن کریم کی تلاوت اور نوافل میں گزارتے تھے اور صبح کے وقت میدان جنگ میں چلے جاتے تھے۔تو ان کی قوت اور طاقت کا منبع اور سر چشمہ نیند اور آرام یا کھانا نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کی کوشش تھی۔اس طرف ہمارے بہت سے مبلغ ہیں، جو توجہ دے رہے ہیں۔لیکن ایسے بھی ہیں، جو توجہ نہیں دے رہے۔اگر تم نے اپنے جسم اور روح کی طاقت اللہ تعالیٰ سے حاصل نہ کی تو تمام ادیان کے مقابلہ میں جو جنگ تم لڑ رہے ہو، اس کی طاقت تم کیسے پاؤ گے ؟ تم لڑہی نہیں سکتے۔تمہارے جسم تمہارے ذہن، تمہارے حافظے اور تمہاری ذہنی اور روحانی قو تیں جو ہیں، وہ اتنی کمزور ہوں گی (اس منبع سے کٹ کر ) کہ تم غالب نہیں آسکتے ، اپنے مخالف پر تم 618