تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 620 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 620

اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 31 جولائی 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم طرح جس طرح ان بزرگ فدائیوں کو جو ثانی اثنین تھا، ہر ایک کو انہوں نے یادرکھا ، اس طرح تمہیں یاد نہ رکھے گی۔لیکن اگر تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں فنا ہو کر اپنا سب کچھ خدا تعالیٰ کے قدموں میں ڈال دو تو خدا تعالیٰ کی رحمت آسمانوں سے تم پر نازل ہوگی اور وہ فوجیں اتریں گی، جنہیں تم تو دیکھو گے لیکن دنیا نہیں دیکھ رہی ہوگی۔نہ کمزور ایمان اور منافق انہیں دیکھ رہا ہوگا۔نتائج ظاہر کر رہے ہوں گے کہ ایک انقلاب عظیم آیا ہے، اس کے پیچھے کوئی ہاتھ ہونا چاہئے۔لیکن وہ ہاتھ نظر نہیں آ رہا ہوگا۔کیونکہ وہ غیر مرئی ہاتھ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کا ہوگا۔جسے یہ انسان اور اس کی آنکھ نہیں دیکھا کرتی۔اور جو مالی مطالبہ ہے، میں سمجھتا ہوں اور میری خواہش ہے کہ اسے اتنے لاکھ ہو جانا چاہئے ، جو خلافت احمدیہ کے سال ہیں۔یعنی اس وقت تک دو خلافتیں اور کچھ سال پتہ نہیں کب تک میں نے زندہ رہنا ہے، لیکن اس وقت تک جو زندگی اللہ تعالیٰ مجھے دے چکا ہے، اس کو پہلی دو خلافتوں کے سالوں ، میں شامل کر کے جتنے سال بنتے ہیں ، تقریباً 62 سال، اتنے لاکھ (چندہ نصرت جہاں ریز روفنڈ کا ) ہونا چاہئے۔اور جانی قربانی اتنی کثرت سے اور اس قدر ایثار سے ہونی چاہئے کہ اگلے پانچ سال، پچھلے ساٹھ سالہ ظاہری ترقی کے مقابلہ میں زیادہ ہوں۔یعنی اگلے پانچ سال میں اتنی Base ( میں ) کو اپنے حملہ کے لئے ، جو تیاری ہو یعنی آخری کامیاب حملہ کی جو تیاری ہو، اس کے لئے اس قدر تیار کر لیں کہ آہستہ آہستہ بتدریج اللہ تعالیٰ نے جو ترقی دی تھی، اگلے پانچ یا دس سال میں ہم اس سے آگے نکل جائیں۔یہ ضروری ہے، کامیابی آئے محض ترقی ضروری نہیں۔محض اپنی رفتار کو قائم رکھنا، یہ کافی نہیں۔بلکہ ہر دوسرا قدم پہلے سے آگے بڑھنا چاہئے اور اس کو انگریزی میں Momentum کہتے ہیں۔یعنی ہر سال کوشش اور اس کا نتیجہ پہلے سال سے دگنا ہونا چاہئے۔تب ہم جا کر اگلے دس سال میں اسی چیز کو حاصل کر سکتے ہیں، جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اور جس کے حصول کو اللہ تعالٰی نے بالکل ممکن بنا دیا ہے۔جو میں وہاں دیکھ کر آیا ہوں۔آدمی کثرت سے آئیں مخلص آئیں ، ایسے آئیں کہ جو فدائی ہوں، بے نفس ہوں ، مردہ ہوں ، دنیا کی نگاہ میں اور اللہ تعالیٰ سے زندگی کو حاصل کرنے والے ہوں۔خدا کرے ایسا ہو۔خدا کرے کہ ہماری آج کی جو ذمہ داری ہے، اس کو ہم نبھا سکیں۔آج ہم انتہائی طور پر نازک دور میں سے اس معنی میں گزر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری عظیم کامیابیوں کے لئے دنیا کی فضا کو ہمارے لئے بہتر بنا دیا ہے۔اور اس تبدیلی کا جو امکان ہے، اس تبدیلی کو عملی شکل دینا، یہ ہمارے سپر د کر دیا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے قریباً پھل تیار کر کے اس طرح جس طرح دس فٹ کے اوپر اس 620