تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 616 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 616

اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 31 جولائی 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم زیادہ سے زیادہ سامان پیدا کرتا جاتا ہے اور کرتا چلا جائے گا۔جب تک کہ وہ آخری غلبہ اسلام کو حاصل نہیں ہو جائے گا، جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے ہیں۔اور تمام بنی نوع انسان جب تک اسلام میں داخل ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فدائی نہ بن جائیں۔اس غلبہ کے حصول کے لئے جس جہاد کی ضرورت ہے، وہ تلوار کا جہاد نہیں۔کیونکہ اسلام کے خلاف تلوار میان سے نہیں نکالی گئی۔نہ مذہب کو تباہ کرنے کے لئے ایٹم بم استعمال کیا جاتا ہے۔دشمن قوم کو تباہ کرنے کے لئے ایٹم بم تو استعمال کیا جاتا ہے۔اور ہونا بھی یہی چاہئے کیونکہ اس کی ہلاکت کا جسموں پر اثر ہے۔لیکن مذہب کے مقابلہ میں ایٹم بم نہ استعمال کیا جاتا ہے، نہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔کیونکہ جیسا کہ میں نے یورپ کو کہا، آپ کو بھی بتایا کہ ساری دُنیا کے ایٹم بم اور ہائیڈ روجن بم مل کر بھی ایک دل میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کر سکتے۔لاکھوں، کروڑوں کو تباہ کر سکتے ہیں ، اس میں کوئی شک نہیں۔لیکن ایک دل میں وہ تبدیلی پیدا نہیں کر سکتے۔دل میں تبدیلی پیدا کرنا، اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوا کرتا ہے۔وہ فضل اللہ تعالیٰ نے ہمارے ساتھ شامل کر دیا ہے۔ہم اس کی حمد کرتے ہیں اور ہم حد کر نہیں کر سکتے۔ہم عاجز بندے ہیں۔اتنا انعام ہم پر وہ کر رہا ہے۔بہر حال جو غلبہ اسلام کے سامان پیدا ہور ہے ہیں۔اور جس طرح ایک وقت میں جب مضبوط ہو گئی عرب کی قوم ، عرب میں جو مسلمان تھے ، ان کو طاقت ہوئی، ارتداد کا فتنہ اٹھا، وہ فتنہ دبا دیا گیا اور پھر عرب اسلام کے جھنڈے تلے متحد ہو گیا۔تب اللہ تعالیٰ نے یہ سامان پیدا کیا کہ اس وقت کی جو معلوم دنیا تھی ، اس پر غالب آیا۔چھیڑ چھاڑ شروع کی ایرانیوں نے بھی اور رومیوں نے بھی اور مسلمانوں کو اس کا مقابلہ کرنا پڑا۔ان حالات کے لحاظ سے جو نہایت اعلیٰ تلواریں یعنی ایرانیوں اور رومیوں کے پاس وہ کند تلواریں اور گندے لوہے کی تلوار میں اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے کہا، نکالو! کیونکہ تلوار کے لوہے نے فیصلہ نہیں کرنا، میرے حکم نے فیصلہ کرنا ہے۔آدمی تاریخ پڑھتا ہے تو حیران ہو جاتا ہے۔خالد بن ولید تھے بڑے مخلص، بڑے سمجھدار اور قرآن کریم کے رموزو اسرار سے واقف، کیونکہ اگر ان کی تقریریں پڑھیں تو آدمی ان سے یہی نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ وہ نڈر فدائی تھے۔اور بعض دفعہ ایک ایک جنگ میں نو ، نو تلوار میں ان کے ہاتھ سے ٹوٹ جاتی تھیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا معجزہ ہے کہ سپاہی لڑ رہا ہو، اس کے سامنے دشمن ہو اور تلوار ٹوٹ جائے اور پھر بھی اس کی جان کی حفاظت ہو تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعہ ان کی حفاظت کرتا تھا۔لیکن اس سے پتہ لگتا تھا کہ ان کی تلواریں ان کے مقابلہ میں کچھ حیثیت نہیں رکھتیں۔نو نو تلواریں ایک دن میں ایک معرکہ میں شاید ایک گھنٹہ کے اندراندر 616