تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 615 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 615

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم - اقتباس از خطبه جمعه فرموده 31 جولائی 1970ء اس کو بنایا ، جس نے پہلی خلافت کی کرسی کے اوپر متمکن ہونا تھا۔اور اس طرح ہمیں یہ بتایا کہ اللہ تعالی کی مد داس کے رسول اور اس کے خلیفہ کو پہنچتی ہے۔اور خلیفہ وقت کو کہا کہ تم جماعت کی طرف نہ دیکھنا کہ اگرتم اکیلے رہ گئے۔جس طرح حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ، خلافت راشدہ میں ہر خلیفہ کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح ہیں۔ثانی اثنین۔کیونکہ آپ کے بغیر آپ سے بعد میں، آپ سے دوری میں ، آپ سے قطع تعلق کر کے خلافت راشدہ نہیں رہی۔ثانی اثنین میں جہاں تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سوال ہے، خلافت راشدہ میں آپ ساتھ ہیں۔اور جو دوسرے ہیں، وہ معنوی لحاظ سے آپ کے ساتھ ہیں۔اسی واسطے قرآن کریم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نہیں کہا ، نام نہیں لیا بلکہ کہا ایک ساتھی کے ساتھ۔دو میں دوسرا تھا۔ظاہری جسم کے لحاظ سے وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور مقام کے لحاظ سے پہلے خلیفہ تھے امت مسلمہ کے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم مدد کر دیا نہ کرو۔میری مدد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے خلیفہ کے ساتھ رہے گی۔اور اگر تم مدد نہیں کرو گے تو آسمان سے ایسی فوجیں اتریں گی، جو کمزوری ایمان کے نتیجہ میں تمہیں نظر نہیں آئیں گی اور وہ مدد کر رہی ہوں گی۔جب ایسی فوجیں بہت سے موقعوں پر اتریں تو جن کے ایمان مضبوط تھے، ان کو نظر آ رہی تھیں وہ فوجیں۔بڑی کثرت سے صحابہ نے ان فوجوں کے متعلق باتیں کیں کہ ہم نے یوں دیکھا، ہم نے یوں دیکھا۔ڈرانے کے لئے استثنائی طور پر کافروں کو بھی بعض چیزیں اللہ تعالیٰ نے دکھا دیں۔لیکن مومنوں کے دلوں کو مضبوط کرنے اور ان کو اور بھی ہشاش بشاش کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ نظارے دکھائے ، ایمان کی پختگی کے نتیجہ میں۔لیکن جو کمزور ایمان والا یا منافق ہے اور وہ جس کے دل کے اندرا بھی تک ایمان داخل نہیں ہوا ، اس کو یہ آسمانی فوج نظر نہیں آتی۔لیکن وعدہ ہے اور یہ وعدہ پورا ہو رہا ہے۔اب حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے افریقہ میں جو کارنامہ کیا اپنی خلافت میں اور ہم نے وہاں دیکھا۔اگر ہم ان مبلغین کی طرف دیکھیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہاں خلوص کے ساتھ ایثار اور قربانی کی توفیق عطا کی تو وہ نتیجہ نہیں نکل سکتا، جو میں نظر آیا۔اس سے ہزارواں حصہ شاید کم نکلتا، اگر عمل اور اس کے نتیجہ پر نگاہ کی جائے۔لیکن عمل ایک اور نتیجہ ایک ہزار۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ نوسو، نانوے نتیجہ پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آسمان سے فوجوں کو نازل کیا۔اور وہ نتائج ہمیں بتاتے ہیں کہ آسمان سے ملائکہ کا نزول ہوا۔اور انہوں نے اس وعدہ کے مطابق جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیا گیا تھا، غلبہ اسلام کے سامان پیدا کئے۔اس وقت اللہ تعالیٰ خلافت ثالثہ کے ذریعہ دلائل کے ساتھ اور آسمانی نشانوں کے ساتھ غلبہ اسلام کے 615