تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 617
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 31 جولائی 1970ء ٹوٹ جاتی تھیں۔کیا کرتے ، بیچارے جو ان کے پاس تھا، وہ اپنے رب کے حضور پیش کر دیتے تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت کرتا تھا۔آسمان سے ان پر فرشتے نازل ہوتے تھے۔پھر رومیوں کے ساتھ ان کمزور فدائیوں کو لڑنا پڑا۔ڈیڑھ، ڈیڑھ لاکھ اور دو، دولاکھ فوج کے مقابلہ میں ہیں ، ہمیں ، پینتیس ہزار بعض دفعہ پانچ ہزار بعض دفعہ دس ہزار کی فوج جاتی تھی اور اللہ تعالیٰ ان کو فتح دیتا تھا اور کثرت کا خیال نہیں رکھتا تھا۔کیونکہ جو سبق دیا گیا تھا، ان آیات میں جس کا ذکر ہے، وہ تو یہ ہے کہ اگر وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے خلیفہ جیسی حیثیت رکھیں گے، اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ساری دنیا پر غالب ہوں گے۔وہ مقابلہ تو دو کا تھا ، ساری مخالف دنیا کے ساتھ۔جس میں اللہ تعالیٰ نے کامیاب کیا۔اس وقت کچھ مراکز بنے ، ساری دنیا میں اسلام کے غلبہ کے لئے۔ایک تو ایران کا ملک تھا ، جس کے ماتحت عراق بھی تھا۔عراق کے ورلے حصے، جو عرب سے ملتے تھے ، وہ Base (ہیں) بنی۔وہ ایک Camp (کیمپ) بنا۔ان حصوں کی طرف فاتحانہ یلغار کا اور دوسری طرف شام بنا۔میں سوچتا ہوں اور طبیعت پر یہ اثر ہے اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی طبیعت پر بھی یہی اثر تھا کہ ایک Base (ہیں) ہماری افریقہ ہے۔اور اس وقت ہماری حالت دنیوی مماثلت کے لحاظ سے وہ ہے، جو عراق کے ورلے علاقہ میں مسلمان فوجوں کی تھی۔جس وقت وہ عرب سے باہر نکلے اور انہوں نے آزادی ضمیر کی خاطر ایران جیسی زبر دست سلطنت سے ٹکر لی۔وہ حالت ابھی نہیں آئی، کچھ بدل گئے ہیں۔روم کی حالت ہے کیونکہ روم میں کسری سے لڑائی ہوئی۔ہماری پہلی لڑائی ایسا معلوم ہوتا ہے، عیسائی مذہب سے ہوگی۔جس طرح رومیوں کے ساتھ مسلمانوں کی لڑائی ہوئی۔ویسے تاریخ کے لحاظ سے وہ دوسری لڑائی ہے، مسلمانوں سے۔اس زمانہ میں اور ہماری دوسری لڑائی دہریوں سے ہوگی۔جیسا کہ ایران میں مسلمانوں کی لڑائیاں ہوئیں۔کیونکہ وہاں آتش پرست تھے۔خدائے واحد و یگانہ کو ماننے والے نہ تھے۔رومی جو تھے ، وہ تثلیث کے بھی قائل تھے۔بیچ میں یونیٹیرین بھی تھے۔بہر حال وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نازل شدہ شریعت اور ہدایت کے ماننے والے تھے۔یعنی شریعت ان کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دی تھی اور ہدایت ان کو حضرت عیسی علیہ السلام نے دی تھی۔اس وقت جو ابتدائی ہماری جنگ غلبہ اسلام کے سلسلہ میں ہے ، وہ ہم نے افریقہ میں لڑنی ہے۔اور افریقہ میں مغربی افریقہ ہمارے لئے Camp ( کیمپ) اور Base (بیس) بنے گا اور بن رہا ہے۔اس جنگ کے لئے میں نے مالی اور جانی جہاد کی ندادی ہے۔آپ کو اس کی طرف بلایا ہے۔اور میں خوش ہوں 617