تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 614 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 614

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 31 جولائی 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اس دنیا کی ملیں 240 سال میں اس دنیا میں وہ نعمتیں مل جائیں گی۔اور پھر بعد میں بے شمار زمانہ پڑا ہے، نعمتوں کے حصول کا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اخروی نعماء کے مقابلہ میں اس دنیا کی نعمتیں اور آرام اور آسائش اور عیش وعشرت جو ہے، وہ کچھ حقیقت نہیں رکھتا، نہ ہونے کے برابر ہے۔لیکن تم اس حقیقت کو بھول جاتے ہو۔اور خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ، ان قربانیوں کے دینے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہو، جن کا تم سے مطالبہ کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم ہماری آواز پر لبیک کہتے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت اور مدد کے لئے آگے نہیں بڑھو گے تو اس دنیا کی خاطر تم ایسا کر رہے ہو گے اور ہم اس دنیا میں تمہیں عذاب دیں گے۔جس چیز کی تمہیں تلاش ہے، وہ تمہیں اس دنیا میں نہیں ملے گی۔إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبُكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا تمہیں اللہ تعالی ایک دردناک عذاب پہنچائے گا۔اور دوسری متعدد جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کا عذاب اس دنیا میں بھی اور اخروی زندگی میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔لیکن یہ سمجھنا کہ تم اگر بے وفائی کرو گے اور نفاق کی راہوں کو اختیار کرو گے تو اللہ تعالیٰ کا منشاء پورا نہیں ہوگا، اللہ تعالیٰ کی تقدیر جو ہے، اس کے راستے میں روک پیدا ہو جائے گی، ایسا ہر گز نہیں ہوگا۔وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ اللہ تعالیٰ تو قادر ہے کہ وہ تمہیں مٹادے گا اور ایک اور قوم لے آئے گا۔وہ قوم تمہاری طرح ایمان کی کمزور اور دل کی منافق نہیں ہوگی۔وہ عاشق ہوگی اپنے رب کی اور پیار کرنے والی ہوگی اس کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے۔وہ قربانیاں دے گی بشاشت کے ساتھ ، جن کا ان سے مطالبہ کیا جائے گا۔اور پھر وہ اس دنیا کی حسنات کے بھی وارث ہوں گے اور اس کی بھی حسنات کے وارث ہوں گے۔لَا تَضُرُّوهُ شَيْئًا ط تم نے کیسے سوچ لیا کہ اللہ تعالیٰ ایک تقدیر اس دنیا میں جاری کرنا چاہے اور تم اس کے رستے میں روک بنو؟ تم روک نہیں بن سکتے ، اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ جس چیز کو چاہتا ہے، کر گذرتا ہے۔ہر چیز پر قادر ہے وہ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری یہ مد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے خلفاء کو حاصل ہوتی رہے گی۔یہاں پر دو کا ذکر ہے۔( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے خلفاء کا ظاہری طور پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں لیکن معنوی طور پر آپ کا خلیفہ ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ اس غار میں اور اس سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھی کسی دوسرے مخلص کو نہیں بنایا بلکہ 614