تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 613
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 31 جولائی 1970ء رہے ہیں۔اصل چیز یہ ہے کہ ہم نے تمام انسانوں کو الا ماشاء اللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار کے بندھن میں باندھ دینا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں، جو اسلام سے باہر رہ جائے گا، ان کی حالت چوہڑوں چماروں کی طرح ہوگی۔اگر لاہور کی آبادی کا مقابلہ چوہڑوں چماروں سے کریں تو شاید ایک فیصدی ہوں یا دو فیصدی ہوں۔یہ نہ ہونے کے برابر ہے، جو ان کی حیثیت ہوگی۔اس کام کو کرنے کے لئے اور اس مقصد کے حصول کے لئے ایک جنون کی ضرورت ہے۔ایسا جنون جودنیا کے تمام اصولوں کو توڑ ر پرے پھینک دے۔اور یہ کہے کہ میں ان کا پابند نہیں ہوں، میں اللہ کا عاشق ہوں اور میں اپنے اس عشق کے مطابق دنیا میں کام کروں گا۔اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں جو مضمون بیان کیا ہے، وہ لمبا ہے۔میں اس کے بعض پہلولوں گا۔اس میں یہ فرمایا ہے کہ جو قوم اللہ تعالیٰ کے منشاء کو پورا کرنے کے لئے قائم کی گئی ہے، اسے بھی یاد دہانی کرانی پڑتی ہے اور اس میں کمزور بھی ہوتے ہیں، ان کو جھنجوڑنا پڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم نے ایمان کا دعویٰ کیا ہے لیکن جب تمہیں کہا جاتا ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ کے لئے اپنے گھروں اور اپنے وطنوں سے نکلو اثَاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ تمہاری طبیعت یا تم میں سے بعض جو ہیں، وہ الارض کی طرف، جس کے معنی حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے وطن بھی کئے ہیں، یعنی وطن کی محبت آڑے آتی ہے۔وہ کہتے ہیں، ہم اپنے وطن کو کیسے چھوڑیں؟ اور وطن کی محبت میں ہی گھر کی، خاندان کی بیوی بچے کی محبت شامل ہے۔کیونکہ انہیں محبتوں کا مجموعہ وطن کہلاتا ہے۔وطن کی محبت کوئی علیحدہ چیز تو نہیں ہے۔کسی کو بیوی بچوں کی فکر ہوتی ہے، کسی کو مال و دولت کی فکر ہوتی ہے، کسی کو کچھ اور کسی کو کچھ۔ان کے اندر فکر پیدا ہو جاتا ہے اور وہ کیفیت نہیں رہتی ، جس کے نتیجہ میں انسان کے لئے روحانی رفعتوں کی طرف پرواز کرنا ممکن ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم سے ہم نے جو وعدہ کیا ہے، وہ یہ ہے کہ دین اور دنیا کی حسنات تمہیں ملیں گی۔اگر تم ہمارے قول کے مطابق، ہماری ہدایت کے مطابق، ہمارے حکم کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزارو گے، وہ حسنات دارین کا وارث کرے گا۔اور تم صرف ایک بہتری کے پیچھے پڑ جاتے ہو، اس دنیا کی۔جو مجموعی طور پر جو تم سے سے وعدہ کیا گیا ہے، اس کا کروڑواں، اربواں، کھر بواں حصہ بھی نہیں۔کیونکہ اخروی زندگی جو ہے، وہ نہ ختم ہونے والی ہے۔اور اس کی نعمتیں اگر دنیا کی فرض کر لو نعمتوں کا 1/4 بھی ہوں تو اسی سال کی زندگی میں جو عمتیں 613