تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 608
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 17 جولائی 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم لیکن ایک امیر کے لڑکے کا اسلوب، متوسط اور غریب طبقہ سے بھی مختلف ہوگا۔وہاں آ کر وہ آپس میں سموئے جائیں گے۔ان کی ذہنی تربیت ہوگی، ان کی اخلاقی تربیت ہوگی۔پھر وہ جو امیر کا بچہ ہے، وہ یہ دیکھے گا کہ میں غریب کے بچے کو علم اور شرافت اور اخلاق کے مظاہرے میں آگے نہ نکلنے دوں۔اس قسم کی مسابقت اور بڑے صحتمند مقابلے کی روح پیدا ہوگی۔اور غریب کا بچہ کہے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مال دیا ہے تو کیا ہوا، مجھے اللہ تعالیٰ نے جو دوسری قوتیں اور استعداد میں دی ہیں، ان میں، میں اس سے آگے نکلوں گا۔پس ایسے ماحول میں ہر فرد خوش ہوتا ہے۔اس لئے اس قسم کے بچے جامعہ احمدیہ میں آنے چاہئیں اور بڑی کثرت سے آنے چاہئیں۔کیونکہ ہر روز جب سورج طلوع ہوتا ہے تو ہماری ضرورت پہلے دن سے بڑھی ہوتی پاتا ہے۔لیکن سورج کی آنکھ تو ہماری ضرورت میں وسعتوں کا مشاہدہ کرے اور ہماری آنکھ جو ہے، وہ بندر ہے اور نا بینا بن جائے تو یہ تو کوئی خیر اور خوبی کی بات نہیں ہے۔ہماری ضرورتیں دن بدن بڑھ رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل بڑی وسعت اور شدت کے ساتھ موسلا دھار بارش کی طرح ہم پر نازل ہورہے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے جو یہ عظیم اور کثیر انعامات ہم پر ذمہ داریاں عاید کرتے ہیں، ان ذمہ داریوں کو نباہنے کی ہمیں ہوش بھی ہونی چاہئے اور ہمارا ارادہ بھی ہونا چاہئے اور ہماری مخلص نیت بھی ہونی چاہئے اور ایثار کا جذبہ بھی ہونا چاہئے۔یعنی جو ابتدائی چیزیں ہونی چائیں ، وہ ہمیں اپنے اندر پیدا کرنی چاہئیں۔پھر ان کے نتائج جو ہیں، وہ نکلنے چاہئیں۔تب جا کر ہم اس کام میں کامیاب ہو سکتے ہیں، جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ جس طرح اسلام کی نشاۃ اولی میں تمام دنیا پر اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ عطا فر مایا تھا، اپنی جلالی صفات کے اظہار کے ساتھ ، اسی طرح آج کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی جلالی صفات ہمارے وجود میں کچھ اس طرح چمکیں کہ دنیا کی آنکھوں کو خیرہ کرنے والی ہوں اور تمام دنیا کی اقوام کو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد اکٹھی کر دینے والی ہوں۔یہ کام ہے، ہمارا۔اور اس سے کم پر نہ ہم اپنے آپ سے خوش رہ سکتے ہیں، نہ اللہ تعالیٰ ہم سے خوش ہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہی کی توفیق سے انسان اس کی رضا کو حاصل کرتا ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ کو بھی توفیق عطا فرمائے ، ایسے اعمال کے بجالانے کی کہ وہ ہم سے راضی اور خوش ہو جائے۔اور وہ وعدے، جو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ غلبہ اسلام کے ہم سے کئے ہیں ، وہ ہماری زندگیوں میں پورے ہونے لگیں۔رجسٹر خطبات ناصر، غیر مطبوعہ ) 608