تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 607
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 17 جولائی 1970ء پس امیروں کا فرض ہے کہ وہ اپنے ذہین بچوں کو جامعہ احمدیہ میں بھجوائیں اور اس کے مطابق ان کی تربیت کریں۔بعض نے کی ہے۔مثلاً ہمارے مرزا عبد الحق صاحب بڑے اچھے اور کامیاب وکیل ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کو پیسہ بھی دیا ہے۔ان کا ایک بچہ یہاں جامعہ احمدیہ میں پڑھتا رہا ہے۔آج کل بیچارا جرمنی میں ہے۔بیچارا میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ وہ مصیبت میں ہے۔اس کا آگے پڑھائی کا کام نہیں ہورہا۔بہر حال وہ جامعہ احمدیہ میں اپنے خرچ پر پڑھا اور پھر جرمنی چلا گیا۔اب تو اس کا وظیفہ بھی مصر سے آ گیا تھا لیکن میں نے اسے ہدایت کی تھی کہ نہیں، اب تم جن تکالیف سے گذرے ہو، شاید اللہ تعالیٰ کا یہی منشاء ہو کہ تم جرمن زبان اچھی طرح سے سیکھ لو۔اس لئے اب جرمنی میں ہی رہو اور جرمن زبان سیکھو۔خدا کرے، اس میں وہ کامیاب ہو جائے۔زبان سیکھنے کا ملکہ بھی کسی کسی کو ہوتا ہے، ہر ایک کو نہیں ہوتا۔بہر حال ہمارے جامعہ احمدیہ میں امیروں کے بچے بھی آنے چاہئیں، متوسط طبقہ کے بھی آنے چاہئیں اور غریبوں کے بچے بھی آنے چاہئیں۔لیکن سارے کے سارے ذہین ہونے چاہئیں اور بڑے مخلص ہونے چاہئیں اور سعید الفطرت ہونے چاہئیں۔ویسے تو کسی نے یہ ٹھیک نہیں لیا کہ فطرتی سعادت پر انسان ہمیشہ قائم رہے۔ٹھوکریں بھی لگ جاتی ہیں۔بلعم باعور کے قصے بھی ہم نے پڑھتے ہیں۔اچھے اچھے مخلص خاندانوں کے بچے بھی خراب ہو جاتے ہیں۔اور بعض دفعہ نہایت ذلیل اور کمینے اور دہریہ اور اللہ تعالیٰ کی ہستی سے بیزار اور مذہب سے نفرت کرنے والے گھروں میں متقی اور پرہیز گار اور خدا کا خوف رکھنے والے اور خشیۃ اللہ سے جن کے سینے معمور ہوں ، وہ پیدا ہو جاتے ہیں۔اس لئے قرآن کریم نے کہا ہے کہ یہ اللہ ہے، جو مردہ سے زندہ کو اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے۔یہ چکر تو اپنی جگہ چل رہا ہے۔لیکن جہاں تک ہمارا تعلق ہے، خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ظاہر پر اپنا حکم جاری کرو اور اسی کے مطابق فیصلہ کرو۔پس ظاہری طور پر خلص، دیندار اور ایثار پیشہ، اللہ تعالیٰ سے ذاتی محبت رکھنے والے، حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مہدی معہود علیہ السلام کی محبت سے جن کے سینے پر اور دل منور ہوں ، ایسے بچے ہمیں چاہئیں اور ہر طبقے سے چاہئیں۔تا کہ ہم سی ذہنی اور اخلاقی نشو و نما کر سکیں۔پس اس کے لئے ضروری ہے کہ ایک Representative ( ری پری زینٹیو ) یعنی نمائندہ گروه جامعہ احمدیہ میں پڑھ رہا ہو۔سب طبقوں کی نمائندگی کر رہا ہو۔اور صحیح معاشرہ اور صحیح معاشرہ کے اسباق کی نشاندہی کر رہا ہو۔آخر انہوں نے باہر جا کر دنیا کا معلم بننا ہے۔ان میں سے ہر ایک کو یہ پتہ ہونا چاہئے کہ امیر کی تھنگ کیا ہے؟ یہ صحیح ہے کہ ہماری تھنکنگ یعنی ہماری سوچ اور فکر کا اسلوب دوسروں سے مختلف ہوگا۔607