تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 583
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمود 10 جولائی 1970ء ہماری اسلامی تاریخ میں میرے خیال میں درجنوں ایسے بادشاہوں کے خاندان ہوں گے، جو حبشی غلاموں سے تعلق رکھتے تھے۔مثال تو اس وقت میں ( وقت کی رعایت سے ) جو بہت ہی حسین اور نمایاں ہے، وہ دیتا رہا ہوں۔تین، چار موقعوں پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی مثال میں نے بیان کی۔ویسے حضرت بلال کے ساتھ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور بھی پیار کے سلوک کئے ہیں۔وہ بھی بڑی حسین مثالیں ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ نے پھر کبھی توفیق دی اور وہاں جانے کا موقعہ ملاتو اور بہت ساری مثالیں دے دیں گے ، اس دنیا میں۔اور اس وقت بھی میرے خیال میں پاکستان کے بہت سے سمجھتے ہوں گے کہ انسان، انسان میں فرق ہے۔اسلام تو انسان، انسان میں فرق مٹانے کے لئے آیا تھا۔قائم کرنے یا قائم رہنے دینے کے لئے نہیں آیا تھا۔ایک حبشی اپنے تصور میں لے آؤ، جس قسم کا وہ ہوتا ہے (ویسے عملاً وہ ویسا ہی ہوتا ہے ) یہاں انگریز نے ہمارے بچپن میں جو تصور دیا تھا، وہ یہ تھا کہ حبشیوں کے ہونٹ لٹکے ہوئے اور نچلا ہونٹ ٹھوڑی کے کنارے تک پہنچا ہوا اور آنکھیں سرخ ہوتی ہیں، جس طرح کی شکل و شیطان کی بناتے تھے، اسی طرح کی شکل حبشی کی بھی بنا دیتے تھے۔مگر وہاں ایسا نہیں ، الَّا مَا شَاءَ الله بعض اس سے ملتی جلتی شکلیں تو ہیں لیکن اتنی بھیانک نہیں ہیں۔ان کے بڑے تیکھے نقوش ( اور اس وقت جو دوست میرے سامنے بیٹھے ہیں، عام طور پر ان سے ملتے جلتے چہرے ) ہم نے وہاں دیکھتے ہیں۔خصوصاً احمد یوں میں اور پھر دوسرے مسلمانوں میں اس قسم کے بھدے اور ڈراؤ نے نقوش نہیں ہیں۔البتہ عیسائیوں میں مجھے کہیں کہیں نظر آئے ہیں۔پتہ نہیں اس میں کیا حکمت ہے؟ وه بہر حال ایک حبشی جو مکہ کے پیرا ماؤنٹ چیفس کا غلام تھا۔اور وہ اس کے ساتھ نفرت اور حقارت کے ساتھ پیش آتے تھے۔ان کے دلوں میں اس کی کوئی عزت نہیں تھی، کسی قسم کی عزت کا اظہار ان سے نہیں ہوا کرتا تھا۔پھر خدا کا کرنا کیا ہوا کہ یہی حبشی غلام، جو ان کی نگاہوں میں بڑا ذلیل تھا، اللہ تعالیٰ نے اسے نور دکھایا اور وہ اسلام لے آیا۔پہلے صرف نفرت اور حقارت تھی ، اب نفرت اور حقارت کے ساتھ ظلم بھی ہو گیا۔انہوں نے اس کو اس طرح اذیت پہنچائی کہ آج بھی ہم سوچتے ہیں تو ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔پھر ایک مسلمان کو خیال آیا، اس نے اسے خرید کر آزاد کر دیا۔اور وہ مسلمان معاشرہ کا ایک فرد بن گیا۔مسلمان معاشرہ کا فرد تو ویسے اسلام لانے کے بعد ہی بن گیا تھا مگر غلامی کی زنجیروں کی وجہ سے عملاً مسلمان معاشرہ کا فرد نہیں بن سکا تھا۔پھر وہ بڑے سے بڑے مسلمان گواس وقت چند ایک ہی سہی کیونکہ اس وقت رؤسائے مکہ میں سے چند ایک مسلمان ہو چکے تھے، ان کے برابر ہو گیا۔اور وہ عملاً ان کی 583