تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 582 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 582

خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 1970ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم گا، وہ تمہیں گلاسکومشن کا انچارج بنا کر بھیجے گا۔وہ تو میں جو صدیوں تک تم پر ظلم کرتی رہی ہیں، انہیں یہ پتہ لگنا چاہئے کہ تم لوگ اس قابل ہو کہ دین کے میدان میں پیار کے میدان میں اور محبت کے میدان میں اور ہمدردی اور غم خواری کے میدان میں، خدمت کے جذبہ کے میدان میں اور مساوات کا پیغام دینے کے میدان میں تم ان کے استاد بنو گے، انشاء اللہ۔ان سے میں نے کہہ دیا کہ تم چار سال کے بعد ر بوہ آؤ گے اور یہاں اپنی انگریزی (ویسے تو اچھی خاصی جانتے ہیں) اور زیادہ improve ( بہتر ) کرو گے اور پھر یہاں سے تمہیں گلاسکو بھیج دیں گے۔ان کے ملک کو بھی میں نے کہہ دیا ہے کہ ہمارا تو یہ پروگرام ہے۔ہمارے ایک بڑے مخلص افریقن کماسی میں، جو غانا کا ایک مشہور شہر ہے، ہمارے ایک سکول کے ہیڈ ماسٹر ہیں۔وہاں ان کے ملک کی یہ پالیسی ہے اور یہ درست ہے کہ جو استاد یا پرنسپل انہیں افریقی ملے گا، اس کی جگہ وہ غیر ملکی کونہیں رکھیں گے۔چنانچہ شروع میں ہمیں یہ خیال تھا کہ کہیں اس کا ہمارے سکولوں پر برا اثر نہ پڑے۔لیکن چونکہ وہاں کا معاشرہ کچھ اور رنگ رکھتا ہے۔عملاً یہ ثابت ہوا کہ کوئی برا اثر نہیں پڑا۔لیکن خدا کا کرنا یہ ہوا کہ ہمارے کماسی کے اس نہایت اعلیٰ اور مقبول اور بہت ہی کامیاب سکول (جو ہمارے انٹر میڈیٹ کالج کے برابر ہے ) کا جو افریقی پر نسپل مقرر کیا گیا، وہ ایک احمد ہی تھا۔اس سے بھی میں نے کہا کہ تم بھی تیار ہو جاؤ ممکن ہے، کسی دن میں تمہیں پاکستان میں بلا کر یہاں کے کسی سکول کا ہیڈ ماسٹر بنا دوں۔کیونکہ جہاں تک احمدیت کا تعلق ہے، کسی ایک ملک یا کسی ایک قوم کی اجارہ داری نہیں ہے۔إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ * ط (الحجرات :14) میں "حسم" کے مخاطب پاکستانی نہیں یا صرف پہلے عرب نہیں تھے۔بلکہ ہر انسان اس کا مخاطب ہے۔جو بھی تقوی میں آگے نکل جائے گا خواہ وہ فرد ہو یا قوم، اللہ تعالیٰ کو وہ دوسرے فرد یا قوم سے زیادہ پیارا ہو گا۔اور جو آگے نکل گئے ہیں، اپنے خلوص اور قربانیوں میں، بہر حال ہمارا یہ کام ہے، جماعت احمدیہ کے خلفاء کا یہ کام ہے کہ ان کو دوسروں کی نسبت زیادہ عزت اور احترام دیں۔پس وہ بھی یہاں آئیں گے، جس طرح ہم یہاں سے مبلغ اور پرنسپل وہاں بھجوا رہے ہیں۔وہاں کے لوگ یہاں آئیں گے اور پھر دوسرے ملکوں میں جائیں گے۔ساری دنیا کو پتہ لگے گا کہ وہ حسین معاشرہ پھر دنیا میں قائم ہونا شروع ہو گیا ہے، جو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ میں اور پھر جب اسلام غالب آیا تو ساری دنیا میں قائم کیا تھا۔582