تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 584 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 584

خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم زندگیوں کے برابر تھا، کوئی فرق نہیں تھا۔پھر خدا تعالیٰ نے فتح مکہ کے موقع پر انسانیت کو وہ عظیم نظارہ دکھایا۔کہ دنیا کی تاریخ جس کی مثال نہیں لاسکتی۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جھنڈ ا تیار کر وایا ( میں نے تصور کی نگاہ سے وہاں کا نقشہ اپنے ذہن میں لانے کی کوشش کی ہے ) لوگ حیران ہوتے ہوں گے کہ ایک نیا جھنڈا کیوں تیار کروایا جارہا ہے؟ بہر حال ایک جھنڈا تیار کروایا اور فرمایا، یہ بلال کا جھنڈا ہے۔آپ نے اس جھنڈے کو بلال کا نام دیا اور ایک جگہ اسے نصب کروا دیا اور پھر انہی رؤسائے ملکہ کو فرمایا کہ جس شخص کو تم نفرت اور حقارت سے دیکھا کرتے تھے اور جس پر تم ظلم ڈھایا کرتے تھے، آج اگر پناہ چاہتے ہو تو اس کے جھنڈے کے نیچے آ جاؤ۔یہ ایک مثال ہے، جو درجنوں مثالوں میں سے نظر آتی ہے۔ہمارا یہ دعویٰ کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہیں تبھی کسی حقیقت اور صداقت کا حامل بن سکتا ہے، اگر ہم اس کے مطابق عمل کریں۔تاہم اس حصہ کو میں بعد میں لوں گا۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اسوہ حسنہ میرے سامنے تھا۔چنانچہ ان کے سامنے جب میں یہ بات بیان کرتا تھا، مختلف موقعوں پر مختلف لوگوں کے سامنے، کیونکہ ملک بھی دوسرا ہوتا تھا اور جگہ بدلنے سے 99 فیصد جو اس جلسے میں ہوتے تھے ، وہ بھی مختلف ہوتے تھے۔بلا مبالغہ Scientific Explanation سائنٹیفک ایکس پلے نیشن) تو میرے ذہن میں نہیں آیا لیکن میں نے محسوس کیا کہ ان کی خوشی صوتی لہروں میں بھی ایک ارتعاش پیدا کرتی تھی۔بغیر آواز کے اور میرے کانوں نے ان کی خوشی کی لہروں کو محسوس کیا۔اور اس کا اثر صرف مسلمانوں پر ہی نہیں ہوتا تھا۔ان کو تو تھوڑا بہت پہلے سے علم ہے۔عیسائی بھی متاثر ہوتے تھے اور وہ مشرک اور بدھ مذہب، جن میں ابھی تک بڑی ظالمانہ رسوم رائج ہیں، وہ بھی سنتے تھے کہ اسلام کا پیش کردہ صداقت اور محبت اور پیار اور ہمدردی اور غم خواری اور خدمت اور سلام مساوات کا یہ اعلان ہے اور یہ ہے تو اثر قبول کئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔غرض کیا عیسائی اور کیا مشرک اور بدھ مذہب ؟ جب ہماری ان باتوں کو سنتے تھے تو وہ اتنا اثر قبول کرتے کہ ہم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔سلوک ٹیچی مان میں عبدالوہاب بن آدم ہمارے مبلغ ہیں، جو انشاء اللہ گلاسکو میں جا کر وہاں کے انچارج مشن بنیں گے۔وہ بڑا اچھا کام کر رہے ہیں۔وہاں ہم گئے تھے، انہوں نے وہاں بہت بڑی مسجد بنوائی ہے۔جو آپ کا نقشہ ہے اس مسجد کا ، اس سے چار گنا بڑی ہے۔میں نے اس کا افتتاح کرنا تھا ، دوستوں سے ملنا تھا۔وہاں اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، جماعت کا اتنا رعب ہے کہ بڑے بڑے پادریوں کو بھی مجبوراً ہمارے جلسوں میں شامل ہونا پڑتا ہے۔کچھ تو انہوں نے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ یہ کام کیا کر رہے ہیں؟ اور کس 584