تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 42
خطبہ جمعہ فرمودہ 25 فروری 1966ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم پس یہ کتنی بڑی بشارت ہے، جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کی ہے۔اس نے خود فرمایا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں پیش کرو گے تو وہ نہ صرف انہیں قبول کرے گا بلکہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کام پر لگا دیا ہے کہ آپ ہمارے لئے دعائیں کریں۔اللہ آپ کی دعاؤں کو قبول کر کے اپنی رحمانیت کے تحت ہر وقت ان کے ثواب میں بڑھوتی کرتا چلا جائے گا۔پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ قیامت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اظلال نے بھی ہمیشہ اور ہر وقت موجود رہنا ہے۔اس لئے ان کو بھی یہ حکم ہے کہ تم جس جماعت پر مقرر کئے گئے ہو، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کامل ہونے کی وجہ سے ان کے لئے ہمیشہ دعائیں کرتے رہو۔چنانچہ اس حکم کے ماتحت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفاء راشدین، مجددین اور اولیاء امت اپنے لئے اتنی دعا ئیں نہ کرتے تھے، جتنی دعائیں انہوں نے امت مسلمہ کے لئے کیں۔اور اب جماعت احمدیہ کے خلفاء بھی اپنے لئے اتنی دعائیں نہیں کرتے ، (یا نہیں کرتے رہے، جتنی دعائیں وہ احمدی بھائیوں کے لئے کرتے ہیں اور کرتے رہے ہیں۔اور اس امید اور یقین سے دعا کرتے اور کرتے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی ان دعاؤں کے نتیجہ میں مومنوں کے دلوں میں تسکین پیدا کرے گا۔پھر ہمارا دل خدا تعالیٰ کی حمد سے بھر جاتا ہے، جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری حقیر دعاؤں کے نتیجہ میں واقع میں مومنوں کے دلوں میں تسکین پیدا ہو جاتی ہے اور جماعت کے افراد کے سینکڑوں خطوط اس بات کی شہادت دے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ اِنَّ صَلوتَكَ سَكَنُ لَهُمْ کو ہر آن پورا کر رہا ہے۔کبھی وہ ہماری دعائیں قبول کر کے مومنوں کے دلوں میں تسکین کے سامان پیدا کرتا ہے اور کبھی وہ مومنوں کو قوت برداشت عطا کر کے ان کے لئے تسکین کے سامان مہیا کرتا ہے۔بہر حال وہ ان کے دلوں میں تسکین کے سامان پیدا کر دیتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا افضل ہے۔پس ان آیات میں جن باتوں کی طرف اللہ تعالیٰ نے ہمیں توجہ دلائی ہے، وہ باتیں ہمیں ہر وقت یادرکھنی چاہئیں۔پہلی بات جو خدا تعالیٰ نے ہمیں ان آیات میں بتائی ہے، یہ ہے کہ مومن اور منافق میں یہ فرق ہے کہ منافق بھی غلطی کرتا ہے اور مومن بھی غلطی کرتا ہے۔لیکن منافق غلطی کرتا ہے تو اس پر اصرار کرتا ہے۔جیسا کہ فرمایا مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ وہ نفاق چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔اس کے لئے ان کے دل میں ندامت کا احساس پیدا نہیں ہوتا۔لیکن اس کے مقابلہ میں جب مومن کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کے دل میں ندامت پیدا ہوتی ہے اور وہ 42