تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 43
تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 فروری 1966ء تو بہ کے ذریعے اپنی غلطی معاف کروانے کی کوشش کرتا ہے۔تب اللہ تعالیٰ اس کو اس معصوم بچے کی طرح بنا دیتا ہے، جو ابھی ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تو بہ کرنے والا تو بہ کرنے کے بعد ( اگر اس کی توبہ قبول ہو جائے ) ایسا ہی ہے، جیسے اس نے کبھی کوئی گناہ کیا ہی نہیں، اس سے کوئی غلطی سرزد ہی نہیں ہوئی۔پس وہ شخص جو تو بہ کر لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے، وہ ویسا ہی معصوم بن جاتا ہے، جیسا کہ ایک نوزائیدہ بچہ۔غرض مومن کو تو بہ کا دروازہ ہمیشہ کھٹکھٹاتے رہنا چاہیے اور خدا تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مومن کے دل میں رجا ہوتی ہے۔وہ یہ امید اور توقع رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو بہ کو قبول کرے گا۔دوسرے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ہمیں یہ بتایا ہے کہ محض ترک معاصی کافی نہیں۔اگر تم میری رضا کو حاصل کرنا چاہتے ہو یا تمہیں میرے قرب کی تلاش ہے تو تمہیں نیکی کی راہیں اختیار کرنا پڑیں گی اور خلوص نیت کے ساتھ اعمال صالحہ بجالانے پڑیں گے۔اور یہی ایک طریق ہے، جس کے ذریعے تم میری بلندیوں کی طرف پرواز کرنے کے قابل ہو سکتے ہو۔پھر ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بشارت بھی دی ہے کہ اگر تم نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ ( نفاق کے ساتھ نہیں ) میرے قائم کردہ سلسلہ اور جماعت میں رہتے ہوئے ، ان تحریکوں میں جو میں جاری کروں شامل ہو گے تو نہ صرف میری طرف سے تمہارے دلوں میں بشاشت پیدا کی جائے گی اور تمہارے لئے یہ قربانیاں دو بھر محسوس نہیں ہوں گی بلکہ تم بڑی بشاشت کے ساتھ اور جنسی خوشی ان قربانیوں کو کرو گے۔اور اس کے بدلہ میں تمہیں دو چیزیں ملیں گی۔ایک تو میں تمہاری قربانیوں کو قبول کر کے اپنی رضا تمہیں دوں گا، دوسرے میں نے اپنے بعض بندوں کو تمہارے لئے دعا کرنے کے لئے مقرر کر چھوڑا ہے۔میں ان کی دعا کو قبول کر کے اپنی رضا کو تمہارے لئے ہر دم اور ہر لحظہ بڑھاتا چلا جاؤں گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس تعلیم پر عمل کرنے اور اسے یاد کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، جو ان آیات قرآنیہ میں بیان کی گئی ہے۔اور پھر سارے قرآن کریم پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے۔اگر وہ لوگ تعداد میں بہت تھوڑے ہیں، جو کلی طور پر تزکیہ نفس حاصل کرتے ہیں اور کلی طور پر اپنے وجود کو فنا کر دیتے ہیں لیکن ہمیں دعا کرتے رہنا چاہیے اور پھر یہ کوشش کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان بندوں میں ہمیں بھی شامل کرلے۔وبالله التوفيق“۔مطبوعه روزنامه الفضل 30 مارچ 1966ء) 43