تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 41
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 فروری 1966ء ابھی پچھلے جمعہ میں نے اس طرف توجہ دلائی تھی کہ اگر چہ جماعت قربانیوں میں ہر سال پہلے کی نسبت ترقی کرتی ہے لیکن وعدے لکھوانے میں بعض دفعہ سستی کرتی ہے اور اس طرح نہ صرف خود نقصان اٹھاتی ہے بلکہ مرکز کو بھی پریشان کرتی ہے۔چنانچہ اس سال بھی اس نے تحریک جدید کے وعدے لکھوانے میں سستی کی ہے، جس سے مرکز پریشانی کا شکار ہو رہا ہے۔میں نے جماعت سے کہا تھا کہ وہ اس طرف فوری توجہ دے۔وعدوں کی آخری میعاد جلد ختم ہو رہی تھی لیکن میں نے کہا تھا کہ میں اہل ربوہ کو وعدے لکھوانے کے لئے مہلت نہیں دوں گا۔باہر چونکہ میری آواز دیر میں پہنچے گی، اس لئے میں باہر کی جماعتوں کو ایک ہفتہ کی مہلت دوں گا۔اور جب یہ رپورٹ ملی کہ اہل ربوہ نے چند دنوں میں اپنے تحریک جدید کے وعدے پچھلے سال سے کچھ اوپر کر دیئے ہیں اور ابھی وعدے لکھوائے جارہے ہیں تو میرے دل میں خدا تعالیٰ کی بڑی حمد پیدا ہوئی۔انشاء اللہ امید ہے کہ اہل ربوہ ابھی وعدوں کے سلسلہ میں اور آگے بڑھ جائیں گے۔اسی طرح راولپنڈی سے بھی آج صبح رپورٹ ملی ہے کہ وہاں کی جماعت نے پچھلے سال سے زائد رقم کے وعدے بھجوا دیئے ہیں اور ابھی وعدے لئے جارہے ہیں۔تا پچھلے سال کی نسبت ان کی قربانیاں زیادہ ہوں اور وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو پہلے کی نسبت زیادہ حاصل کر سکیں۔اس چیز کو دیکھ کر دل میں اللہ تعالیٰ کی بڑی حمد پیدا ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ہم پر یہ فضل کیا ہے کہ ہم پہلے کی نسبت اس کی راہ میں زیادہ اموال خرچ کرنے کی توفیق پارہے ہیں بلکہ وہ ان بشارتوں کو جو اس نے چودہ سوسال قبل سے دے رکھی تھیں، انہیں ہماری زندگی میں ہی پورا کر رہا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کی جتنی بھی حمد کی جائے ، وہ کم ہے۔پھر اس آیت میں اللہ تعالی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ( اور ان کے ان اظلال کو بھی جو آپ کے بعد ہونے والے تھے۔) مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ قربانی کرنے والوں کے لئے دعا بھی کر۔کیونکہ تیری دعا ان کے لئے تسکین کا موجب ہوگی۔میں سمجھتا ہوں کہ مومنوں کے لئے اس میں بہت بڑی بشارت ہے۔اور وہ بشارت یہ ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں دو گے، اگر تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی وہ چیزیں پیش کرو گے، جن کے تم حقیقی مالک ہو اور خدا تعالیٰ کی عطا میں سے وہ تمہارے لئے ہی مخصوص کی گئی ہیں اور پھر تم انہیں بڑی خوشی اور بشاشت سے پیش کرو گے تو خدا تعالیٰ تمہاری ان قربانیوں کو قبول کرے گا۔اور نہ صرف وہ تمہاری قربانیاں قبول کرے گا بلکہ اس نے تمہارے لئے دعاؤں کا ہمیشہ بہنے والا اور کبھی بھی نہ خشک ہونے والا دریا جاری کر دیا ہے۔کیونکہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ تم مومنوں کے لئے ہمیشہ دعا کرتے رہو کہ اللہ تعالیٰ ان کی قربانیوں کا صرف بدلہ ہی نہ دے بلکہ اپنی رحمانیت کی صفت کے ماتحت ان کے ثواب میں ہر آن اور ہر لحظہ زیادتی کرتا چلا جائے۔اور اپنے قرب کی راہیں ان پر ہر وقت کھولتا ر ہے اور ان دعاؤں کے نتیجہ میں وہ انہیں بلند سے بلند تر مقام کی طرف لے جاتا جائے۔41