تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 531 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 531

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم - خطبہ جمعہ فرمودہ 19 جون 1970ء لیکن اگر ایک شخص بھی ایسا ہو، جیسا کہ میں نے مثالیں دی ہیں تو جماعت کی بدنامی کا موجب، ہماری رسوائی کا باعث اور بڑی قابل شرم بات ہے۔جامعہ احمدیہ میں بے نفس زندگی گزارنے کا سبق دینا ضروری ہے۔یہی اسلام کی روح ہے اور یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ انسان اپنے وجود کو بکرے کی طرح اللہ تعالیٰ کے حضور رکھ دے کہ چھری پھیرے، جس طرح چاہے۔جب تک یہ روح نہیں پیدا ہوتی ، ہمارا مبشر مبشر نہیں۔اگر محض چند دلائل سکھا کر ہم نے وہاں تبلیغ کرنی ہو تو بہت سے عیسائی بھی تیار ہو جائیں گے کہ چند دلائل سکھا دو ہم تمہاری تبلیغ کرتے ہیں۔جو بھوکا مرتا ہے، وہ تنخواہ کے ساتھ یہ کام کرنا شروع کر دے گا۔لیکن ہمیں ایسے مبلغ کی ضرورت نہیں۔ہمیں تو اس مبلغ کی ضرورت ہے، جس کا نفس باقی نہ رہے اور اللہ تعالیٰ سے قدرت کو پانے والا اور عزت کو پانے والا اور اثر ورسوخ کو پانے والا ہو۔غلبہ ہو اس کا، لیکن وہ غلبہ، وہ احترام اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہو۔غلبہ تو یہ ہے کہ جو Head of the states (ہیڈ آف دی سٹیٹس) ہیں، وہ بھی بڑی قدر کی نگاہ سے ان لوگوں کو دیکھتے ہیں۔ان بے نفس، اللہ کے پیارے بندوں کے کاموں کا نتیجہ تھا کہ نائیجیریا کے ہیڈ آف دی سٹیٹ کو جب میں ملنے گیا تو نو جوان جرنیل، جس نے امریکہ کے مقابلہ میں سول وار (Civil War) جیتی تھی ، ابھی ابھی میرے جانے سے کچھ عرصہ پہلے جیتی تھی ، بظاہر دنیوی لحاظ سے اس کو بڑا مغرور ہونا چاہئے تھا، لیکن میں جو اس کے لئے بالکل انجان تھا، میں مسلمان تھا اور وہ عیسائی، اس کے باوجود اس کے ذہن پر ہمارے کام کا اتنا اثر تھا کہ وہ مجھے کہنے لگا کہ اس ملک کی ترقی کے جو منصوبے ہیں اور جو کوششیں ہیں، ان میں ہم اور آپ برابر کے شریک ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کے کاموں کی اس سے بڑھ کر اور کوئی تعریف نہیں ہو سکتی۔ایک غیر ملک کے سربراہ کو ان حالات میں کہ امریکہ کو اس نے شکست دی تھی اور اسے جائز فخر تھا ، مجھے کہنے لگا کہ ان غیر ملکی حکومتوں اور غیر ملکی عیسائی مشنز نے اپنا پورا زور لگایا کہ ہمارے ملک کو تباہ کر دیں، اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ہمیں بچالیا۔یہ اس کا فقرہ تھا، اس نے عیسائی مشن پر تنقید کی اور ہمارے متعلق یہ کہا کہ ہم اور آپ ملک کی Progress ( پروگریس ) میں، ملک کی ترقی کی جدو جہد اور کوشش میں Partner ( پارٹنر ) ہیں۔برابر کے شریک ہیں۔یہ تاثر اس قسم کے دماغوں پر محض اس وجہ سے ہے کہ ہمارے مبلغوں کی بڑی بھاری اکثریت کا اور Missions (مشنز ) کے انچارج جو ہیں، ان کا نفس باقی نہیں رہا۔انہوں نے سب کچھ اللہ کے حضور 531