تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 529
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمود : 19 جون 1970 ء لیکن بعض نہایت افسوسناک مثالیں بھی نظر آئیں۔ایک نئے ناتجربہ کار مبلغ گئے ہوئے ہیں۔ہم مختلف مقامات پر جاتے تھے تو وہاں کے مقامی لوگ بھی ہمارے ساتھ ہوتے تھے ) ایک سفر میں ملک کی ساری جماعت کے پریذیڈنٹ اور ایک نوجوان مبلغ ایک ہی کار میں بیٹھے ہوئے تھے ، ہمارے قافلے کے بھی ایک دوست اسی کار میں تھے۔انہوں نے بتایا کہ اتنی بدتمیزی سے ہمارے مبلغ نے اس بوڑھے مؤمن فدائی سے بات کی کہ میں بڑا پریشان ہوا۔لیکن انہوں نے اس مبلغ کو کہا کہ دیکھو! میں پرانا احمدی ہوں ، احمدیت میرے رگ وریشہ میں رچی ہوئی ہے، تمہاری اس بے ہودہ بات کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ، نہ ہو سکتا ہے۔لیکن میں تمہیں یہ بتاتا ہوں کہ اگر تم نے نوجوانوں کے سامنے اس قسم کی بات کی تو تم اس بات کے ذمہ دار ہو گے کہ تم انہیں احمدیت سے دور لے گئے ہو۔ایک اور کے متعلق پتہ لگا کہ ہمارے ایک سکول کے معائنہ کے لئے اس ملک کے محکمہ تعلیم کا انسپکٹر ہمارا افریقن بھائی آیا تو ہمارے مبلغ صاحب کہنے لگے کہ اس کے ساتھ میرابیٹھنا، میری ہتک اور بے عزتی ہے۔میں اس کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا۔نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے رپورٹ کی کہ یہ سکول احمدیوں سے چھین لیا جائے اور اس پر قبضہ کر لیا جائے۔پھر ہمارے مبلغ انچارج ان کے پاس گئے اور ان سے پیار کی باتیں کر کے سمجھایا اور معاملہ کو رفع دفع کیا۔اس مبلغ کو میں نے کہا کہ جماعت احمدیہ نے تمہیں یہاں فرعون بناکر نہیں بھجوایا، ایک خادم بنا کر بھجوایا ہے۔اگر تم خدمت نہیں کر سکتے تو واپس چلے جاؤ۔لیکن یہ استثناء ہیں۔گو تکلیف دہ استثناء ہیں اور فکر پیدا کرنے والے استثناء ہیں۔چنانچہ میں نے دعا کی اور میں نے بہت استغفار کیا۔کیونکہ آخری ذمہ داری بہر حال خلیفہ وقت پر آتی ہے کہ اس قسم کے مبلغوں کو میں نے وہاں بھجوایا، جو خود تربیت کے محتاج تھے۔پھر دعاؤں کے بعد اور بہت استغفار کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ ہمیں اپنا نظام بدلنا چاہئے۔اس وقت جامعہ احمدیہ سے جو نوجوان شاہد فارغ ہوتے ہیں، سارے کے سارے تربیت یافتہ نہیں ہوتے۔ایک تو جامعہ احمدیہ کو سدھارنے کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔ان میں سے بعض وقف کو چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں اور اس وجہ سے ان کو اخراج از جماعت بھی کرنا پڑتا ہے۔بعض ایسے بھی ہیں، جو باہر کام کرتے رہے اور ان کو جماعت سے فارغ کرنا پڑا۔کیونکہ ان کی کوئی تربیت نہیں تھی۔اخراج کے بعد جن کے اندر نیکی اور سعادت ہوتی ہے ، وہ تو بہ کی طرف مائل ہوتے ہیں اور استغفار کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے ہیں۔بہتوں کو اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے۔بعض ایسے بھی ہیں، جوٹوٹ جاتے ہیں۔529