تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 510 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 510

خطبہ جمعہ فرموده 12 جون 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم سامنے اخلاص اور پیار سے اور میری محبت میں میرے حضور پیش کر رہا ہے، میں اس کو اس طرح قبول کر لیتا ہوں ، جس طرح واقعی تیرا ہے۔یہ تو اس کا احسان ہے۔وہاں افریقہ میں بچوں نے ایک نظم پڑھی تھی۔پوری تو مجھے یاد نہیں۔عربی میں ہے اور بہت ہی اچھی ہے۔بچوں کے نرم نرم ہونٹوں سے بڑی پیاری لگتی تھی۔يَا ابْنَ آدَمَ الْمَالُ مَالِى وَالْجَنَّةُ جَنَّتِي وَ أَنْتُمْ عِبَادِى اعِبَادِى اشْتَرُوا جَنَّتِي بِمَـ یعنی اے آدم کے بیٹو! مال بھی میرا ہے اور جنت بھی میری ہے اور تم بھی میرے بندے ہو۔اے میرے بندو! میں تم پر یہ احسان کرتا ہوں کہ جو میری جنت ہے، وہ میرے اس مال سے خریدلو، جو میں نے تمہیں دیا ہے۔بچوں کے نرم نرم ہونٹوں سے نکلی ہوئی، یہ نظم بہت ہی پیاری لگتی تھی۔بہر حال یہ ایک حقیقت ہے، جس سے کوئی ہوش مند انسان انکار نہیں کر سکتا کہ مال بھی اللہ کا اور جنت بھی اللہ کی اور بندہ بھی اللہ کا اور اللہ تعالیٰ بطور احسان یہ فرماتا ہے کہ میرے مال سے میری جنت خرید لو۔پس میں نے اپنے بھائیوں سے یہ کہا کہ مجھے یہ فکر نہیں کہ مال کیسے آئے گا ؟ مال تو انشاء اللہ ضرور آئے گا۔کیونکہ خدا کہتا ہے، خرچ کرو۔اب ایک شخص کو خدا کہے کہ خرچ کرو اور جیبیں اس کی رکھے خالی۔پھر تو وہ ہندوؤں کا خدا ہوگا یا عیسائیوں کا خدا ہو گا یا ان مسلمانوں کا خدا ہوگا ، جو یہ کہتے ہیں کہ ایک مسلمان کو سچی خواب بھی نہیں آسکتی۔ہمارا وہ خدا نہیں۔ہمارا خدا تو قادر وتو انا خدا ہے۔وہی اللہ جو ہمارے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی تمام طاقتوں اور صفات کے ساتھ جلوہ گر ہوا۔وہ ہم سے بولتا بھی ہے۔اور ہم دن رات اس کی قوت اور طاقت کے معجزانہ سلوک اپنے ساتھ دیکھتے بھی ہیں۔فکر یہ ہونی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہماری سعی کو سعئی مشکور بنادے۔یہ نہ ہو کہ خدانخواستہ کہیں ہماری کسی غلطی یا غفلت یا گناہ یا برائی یا کسی وقت کے تکبر کے نتیجہ میں وہ دھتکار دی جائے۔امام رفیق صاحب نے مجھے کہا، وقت تھوڑا ہے اور آپ نے اتنی بڑی رقم جماعت کے ذمہ لگادی ہے، جو فضل عمر فاؤنڈیشن کی ٹوٹل رقم سے دگنی سے بھی زیادہ ہے۔اور جسے انہوں نے تین سال کی کوششوں کے بعد ا کٹھا کیا ہے۔چنانچہ اس سلسلہ میں چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے بڑے دورے کئے ، ہمارے شیخ مبارک احمد صاحب بھی مہینہ، ڈیڑھ مہینہ وہاں رہ کر آئے اور دورے کئے۔تب جا کر تین سال میں 21 ہزار پاؤنڈ جمع ہوئے۔اور میں نے دو گھنٹے میں جو خطاب کیا تھا، ان دو گھنٹوں کے اندر اسی وقت 28-27 ہزار پاؤنڈ کے وعدے اور نقد رقم جمع ہوگئی۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا، میری طرف سے نہیں تھا۔لیکن اس 510