تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 511
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرموده 12 جون 1970ء کرسی اور مقام کی اللہ تعالیٰ غیرت رکھتا ہے، جس مقام پر اس نے مجھے بٹھا دیا ہے۔امام صاحب مجھے کہتے تھے کہ یہ رقم جمع نہیں ہوئی، آپ مجھے مہلت دیں، میں دورے کروں گا اور یہ دس ہزار پاؤنڈ کی رقم جمع کروں گا۔میں یہ سن کر ہنس پڑا۔میں نے انہیں کہا کہ میں ایک دن کی بھی مہلت نہیں دوں گا اور رقم جمع ہو جائے گی۔خدا تعالیٰ مجھے کہے اور میں وہ بات آپ تک پہنچاؤں اور وہ کام نہ ہو۔یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔جس دن میں وہاں سے چلا ہوں، اس دن ان رقوم کو نکال کر جن کی اطلاع ہمیں مل چکی تھی کہ وہ مختلف شہروں سے چل پڑی ہیں، دس ہزار، چارسو، پچاس کے لگ بھگ نقد اس مد میں جمع ہو چکے تھے۔اور اگر ان رقوم کو بھی ملایا جائے ، جن کی اطلاع ہمیں مل چکی تھی تو پھر گیارہ ہزار بلکہ اس سے بھی زیادہ کی رقم عملاً جمع ہو چکی تھی۔اور میرا اندازہ ہے کہ ایک مہینے کے اندر وہ پندرہ ہزار سے اوپر نکل جائیں گے اور ادھر فضل عمر فاؤنڈیشن میں 21 ہزار ٹوٹل اور وہ بھی تین سال کی بڑی کوششوں کے بعد اور ادھر چالیس ہزار اس وقت تک ہو گیا تھا۔میں نے کہا تھا کہ پچاس ہزار تک پہنچ جاؤ، میں بڑا خوش ہوں گا۔ممکن ہے، پچاس ہزار سے بھی اوپر نکل جائیں۔میں نے انہیں یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے، کام کرو اور میں اس کے مطابق کام کروں گا۔اب جماعت کو میں نے یہ نہیں کرنے دینا کہ وہ (افریقہ والے تو ) کہیں کہ کام تیار ہے، پیسے بھیجو اور میں کہوں کہ ہوں تو میں بڑا امیر لیکن میری دولت کا انحصار صرف وعدوں پر ہے۔میرے پاس گھڑ جمع ہیں۔اور جب وہ پورے ہو جائیں گے تو میں تمہیں بھجوا دوں گا۔یہ تو نہیں ہو سکتا۔کام تو بہر حال ہونا ہے اور تم سے لینا ہے۔مثلاً انگلستان میں ہمارے بعض ڈاکٹر ہیں، وہیں پریکٹس کر رہے ہیں۔ان سے میں نے کہا، دیکھو، مجھے ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔تم اخلاص سے اور محبت سے اور ہمدردی سے میری آواز پر لبیک کہو۔ڈاکٹر تو ویسے انشاء اللہ مجھے ضرور ملتے ہیں۔لیکن تم رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کرو۔اگر خود نہیں کرو گے تو میں تمہیں حکم دوں گا اور میر احکم تمہیں بہر حال ماننا پڑے گا۔کیونکہ حکم عدولی تو وہی کرے گا، جو احمدیت کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو گا۔اور جو احمدیت سے نکل جائے ، اس کی نہ مجھے ضرورت ہے، نہ میرے اللہ کو ضرورت ہے۔چنانچہ انہیں بڑی خوشی ہوئی اور انہوں نے اپنی خدمات پیش کیں۔امام رفیق کے پاس بنک کا مینجر آیا ہوا تھا، اسی اکاؤنٹ کے کھولنے کے سلسلہ میں بعض فارم پر کروانے ہوتے ہیں۔وہ مجھ سے بھی ملنے آیا تو میں نے اسے یہ واقعہ سنایا تو وہ بڑا خوش ہوا اور خوب ہنسا۔کہنے لگا، یہ خوب ہے۔رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کر دیا پھر میں تمہیں حکم دوں گا ، جو تمہیں بہر حال ماننا پڑے گا۔پھر وہ کہنے لگا کہ کیا ان میں سے کسی نے رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کی ہیں؟ میں نے کہا، ہاں۔جنہوں نے رضا کارانہ طور پر پیش کی ہیں، انہیں ثواب بہر حال زیادہ ملے گا۔511