تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 509
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمود 12 جون 1970ء کے لحاظ سے فوری طور پر دے دیں۔میں نے انہیں کہا کہ قبل اس کے کہ میں انگلستان چھوڑوں ، اس مد میں دس ہزار پاؤنڈ جمع ہونے چاہئیں۔اور اس وقت انگلستان سے روانگی میں بارہ دن باقی تھے۔چنانچہ دوستوں کے درمیان میں صرف دو گھنٹے بیٹھا۔ایک جمعہ کے بعد اور دوسرے اتوار کے روز۔جس میں اور نٹے آدمی بھی آئے ہوئے تھے۔اور ان دو گھنٹوں میں 28 ہزار پاؤنڈ کے وعدے ہو گئے تھے۔اور 3 اور 4 ہزار پاؤنڈ کے درمیان نقد جمع ہو گئے تھے۔میں نے پھر اپنے سامنے نیا اکاؤنٹ کھلوایا اور اس کا نام نصرت جہاں ریز روفنڈ رکھا ہے۔یہ اکاؤنٹ وہیں رہے گا، وہیں اس میں رقم جمع ہوگی۔غرض نصرت جہاں ریزروفنڈ کے نام سے ایک علیحدہ اکاؤنٹ کھلوایا اور اس میں رقم جمع کروائی۔کیونکہ اس سے پہلے جو رقمیں آ رہی تھیں ، وہ مسجد فنڈ کے اکاؤنٹ میں جا رہی تھیں۔میں نے جمعہ کے خطبہ میں انہیں کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا منشا ہے کہ ہم یہ رقم خرچ کریں اور ہسپتالوں اور سکولوں کے لئے جتنے ڈاکٹر اور ٹیچر چاہئیں وہاں ، مہیا کریں۔میں نے دوستوں سے کہا کہ مجھے یہ خوف نہیں ہے کہ یہ رقم آئے گی یا نہیں؟ یا آئے گی تو کیسے آئے گی؟ یہ مجھے یقین ہے کہ ضرور آئے گی۔اور نہ یہ خوف ہے کہ کام کرنے کے لئے آدمی ملیں گے یا نہیں ؟ ملیں گے، یہ ضرور ملیں گے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ کام کرو۔خدا کہتا ہے تو یہ اس کا کام ہے۔لیکن جس چیز کی مجھے فکر ہے اور آپ کو بھی فکر کرنی چاہئے ، وہ یہ ہے کہ محض خدا کے حضور قربانی دے دینا کسی کام نہیں آتا، جب تک اللہ تعالیٰ اس قربانی کو قبول نہ کر لے۔لاکھوں لاکھ قربانیاں حضرت آدم کے زمانے سے اس وقت تک روکی گئیں۔جن کا ذکر مختلف احادیث میں موجود ہے۔پس مجھے یہ فکر ہے اور آپ کو بھی یہ فکر کرنی چاہئے۔اس لئے دعائیں کرو اور کرتے رہو کہ اے خدا! ہم تیرے عاجز بندے تیرے حضور یہ حقیر قربانیاں پیش کر رہے ہیں تو اپنے فضل اور رحم سے ان قربانیوں کو قبول فرما۔اور تو ہمیں اپنی رضا کی جنت میں داخل فرما۔سعی مشکور ہو ہماری ، وہ سعی نہ ہو، جو ہمارے منہ پر مار دی جائے۔اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا مال ہم اسی کے حضور پیش کرتے ہیں۔اس کا احسان ہے کہ وہ ہماری طرف سے قبول کر لیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔اور آپ کا فرمودہ در مشین میں مندرجہ آمین میں یہ چھوٹا سا مصرعہ بڑا ہی پیارا ہے۔دو گھر سے تو کچھ نہ لائے“ پس یہ ایک حقیقت ہے، کسی بات پر ناز کیا؟ اور قربانی کیا؟ اور ایثار کیسا؟ اور تم پیش کیا کر رہے ہو؟ یہ تو اس کا احسان ہے کہ وہ کہتا ہے، اے میرے بندے! میں نے جو تمہیں مال دیا تھا، وہ تو اب میرے 509