تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 502 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 502

خطبہ جمعہ فرموده 12 جون 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چهارم لئے ہمیں بڑی امید ہے کیونکہ ہمارے پاس پیغام ہی پیار کا ہے، اخوت کا ہے اور ہمدردی کا ہے اور غم خواری کا ہے اور مساوات انسانی کا ہے۔میں نے عیسائیوں میں سے کسی سے بات نہیں کی، جس نے آگے سے یہ نہ کہا ہو کہ جو آپ کہتے ہیں، وہ ٹھیک ہے۔میں نے لائبیریا میں ایک بارہ تیرہ سال کے بچے سے پوچھا تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے غالباً جانسن کہا۔میں نے کہا، نہیں، اس وقت کے بعد تمہارا نام جمیل ناصر ہے اور تم مسلمان ہو۔وہ کہنے لگا، Yes Sir۔وہ بچہ ہمارے امین اللہ خاں سالک کے ہاں کام کرتا ہے۔انہوں نے اگلے روز بتایا کہ اس نے گھر جا کر کہا کہ میرا نام اب جانسن نہیں، میرا نام اب جمیل ناصر ہے اور میں مسلمان ہوں۔ان کے دل ہم نے جیت لئے ہیں۔لیکن ان کے مونہوں سے کہلوانا، ہمارا کام ہے۔ہم بہتوں تک پہنچے ہی نہیں۔ایک جگہ ایروڈ روم پر ایک دکان دارلڑ کی سے ہمیں پتہ لگا کہ ہم بہت سی جگہ غفلت کر جاتے ہیں، تبلیغ نہیں کرتے یا اتنی قربانی نہیں دیتے ، جتنی ہمیں قربانی دینی چاہیے۔اس لڑکی کو دلچسپی پیدا ہوئی، اس نے چوہدری محمد علی صاحب سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ اور میں ان سے ملنا چاہتی ہوں؟ ( بعد میں وہ منصورہ بیگم سے بڑے پیار سے ملیں بھی چوہدری صاحب نے کہا کہ امام مہدی آگئے ہیں اور یہ ان کے تیسرے خلیفہ ہیں۔اس نے آگے سے جو جواب دیا، وہ دل میں بڑا درد اور دکھ پیدا کرنے والا ہے۔وہ کہنے لگی کہ اگر امام مہدی آ گئے ہیں تو مجھے کیوں علم نہیں؟ بات اس کی ٹھیک ہے۔ہماری غفلت ہے۔انہوں نے اسے یہی جواب دیا کہ یہ ہمارا قصور ہے کہ ہم نے تمہیں بتایا نہیں۔اس کا یہی مطلب تھا کہ اگر امام مہدی آگئے ہیں تو مجھے اس کا کیوں علم نہیں ہوا؟ میرے پاس کوئی بتانے والا کیوں نہیں آیا کہ امام مہدی آگئے ہیں؟ پس دنیا یہ پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ اگر مہدی معہود مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آگئے ہیں تو ہمیں علم کیوں نہیں ہوا؟ دنیا کو بتانا ایک احمدی کا فرض ہے۔آسمان سے فرشتوں نے آ کر نہیں بتانا۔اور اسی کی طرف میں انشاء اللہ اس خطبہ میں آپ کو لے کر آؤں گا۔یہ محبت کا پیغام روز روشن کی طرح ان ممالک میں بھی اور جہاں میں نہیں جاسکا، وہاں بھی ان پر عیاں ہو چکا ہے۔وہ اب ماننے لگ گئے ہیں کہ احمدی محبت اور پیار اور ہمدردی اور غم خواری اور مساوات کا پیغام لے کر ہمارے ملکوں میں آئے ہیں۔مجھے بہت سے دوسرے ممالک کے سفراء ملے اور مجھ سے یہ کہنے لگے کہ ہم نے کیا قصور کیا تھا کہ آپ نے اپنے دورہ میں ہمارے ملکوں کو شامل نہیں کیا ؟ میں ان کو کیا کہتا کہ تمہارا قصور ہے یا نہیں؟ بہر حال اس سے پتہ لگتا ہے کہ انہیں احمدیت کی طرف توجہ ہے۔دنیا میں اللہ تعالیٰ کے فرشتے بہت ساری تبدیلیاں کر رہے ہیں۔ان تبدیلیوں کے آخری نتائج کو سنبھالنا، انسان کا کام ہوتا ہے۔اور یہ جماعت احمدیہ کا کام ہے۔502