تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 503 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 503

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم - خطبہ جمعہ فرمود 12 جون 1970 ء ان لوگوں میں ایک اور خوبی مجھے یہ نظر آئی کہ وہ صفائی کا بڑا خیال رکھتے ہیں۔یہاں تو یہ مشہور ہے کہ بڑی گندی اور بد بودار تو میں ہیں۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے صرف گھانا کے ملک میں منصورہ بیگم کے عورتوں کے مصافحے اور میرے مردوں کے جو مصافحے ہوئے ، ان کا 25 ہزار سے زائد کا اندازہ ہے۔لیکن مختلف جلسوں میں شمولیت اگر 30-25 ہزار مردوزن کریں تو اس سے صاف طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس وقت وہاں کی ہماری بالغ آبادی دو اور تین لاکھ کے درمیان ہے۔بچے اور بچیوں کو چھوڑ کر ، یقیناً اتنی آبادی ہوگی۔خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی آبادی ہے۔اور سارے ممالک میں تو ہم نے بہت زیادہ مصافحے کئے ہیں اور میں نے ہزاروں معانقے کئے ہیں اور میرے خیال میں ہزاروں ہی کی تعداد میں بچوں سے پیار کیا ہے۔اور سارے دورے کے اندر سوائے ایک یادو کے کسی سے بدبو نہیں آئی۔ہزاروں میں سے ایک، دو کا ہونا محض استثناء ہے۔غرض ان میں بد بو نہیں ہے۔وہ اتنے صاف لوگ ہیں اور صفائی کے اتنے شوقین ہیں کہ ان چھ ملکوں میں سے کسی جگہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ مجھے پانی نظر آیا ہواور وہاں افریقن کپڑے نہ دھور ہے ہوں۔میں نے بڑا غور کیا، جہاں کہیں بھی مجھے پانی نظر آیا، میں نے اس پر افریقوں کو کپڑے دھوتے ہوئے پایا۔وہ دن میں تین دفعہ نہاتے ہیں۔یہاں بھی اگر میں پوچھوں (لیکن میں پوچھوں گا نہیں ) تو شاید صرف سینکڑوں ہی ایسے نکلیں، جو دن میں دو دفعہ نہاتے ہوں گے۔مگر وہ دن میں تین دفعہ نہاتے ہیں۔اور ان میں سے بعض ایسے ہیں، جو دن میں پانچ دفعہ کپڑے بدلتے ہیں۔وہ جبوں کے بڑے شوقین ہیں۔( مجھے بھی انہوں نے پیار سے ان جبوں کے تھنے دیئے ہیں۔بس دن میں کئی بار جسے بدلتے رہتے ہیں۔اور ان جبوں کے ساتھ ان کی شکلیں بھی بدل جاتی ہیں۔پہچاننا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔پس بہت صاف ملک ہیں۔لوگ بڑے صاف رہتے ہیں۔دل سے دعا نکلتی تھی کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان قوموں کو ظاہری صفائی کی توفیق عطا کی ہے، اللہ تعالیٰ ایسے حالات پیدا کر دے کہ ان کی باطنی صفائی کے بھی سامان ہو جائیں۔یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ہم نے جاکر ان کی باطنی صفائی کے انتظام کرنے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کی باطنی صفائی کے جمعدار ہمیں بنایا ہے۔ہمارے سوا دوسرا کوئی باطنی صفائی کر ہی نہیں سکتا۔جب اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے آپ کو چنا ہے اور سوائے آپ کے کسی کو نہیں چنا، پھر یہ تو بڑی ناشکری ہوگی کہ ہم اپنے کام سے گھبرائیں۔میں نے ان کو وہاں یہ بھی کہا کہ میں یہاں آیا ہوں اور تم خوش ہو۔خوشی کی کوئی انتہا ہی نہیں تھی ، میں اس کو بیان نہیں کر سکتا۔میری نظریں شرم سے جھک جاتی تھیں۔اور مجھ میں خدا تعالیٰ کی حمد کی طاقت 503