تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 485 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 485

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطاب فرموده 07 جون 1970ء ساری باتیں میرے ذہن میں ڈال دیں۔اور اس پریس کے لئے نہ میں نے اپیل کی ہے اور نہ میں کروں گا۔بعض لوگوں نے روپیہ دے دیا ہے، اللہ تعالیٰ انہیں جزا دے۔یہ تھوڑی سی رقم ہے، پندرہ ، ہیں، تہیں ہزار کی۔مگر پریس کے خرچ کا اندازہ دس، بارہ لاکھ روپیہ ہے۔پس انشاء اللہ وہ لگ جائے گا۔بڑے اچھے اچھے پر لیس بن گئے ہیں۔دعا بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جلدی انتظام کر دے۔کیونکہ یہ جتنی جلدی لگے گا ، اتنا ہی اچھا ہے۔دنیا کے لئے بھی اور ہمارے لئے بھی۔کیونکہ ہمیں ثواب ملے گا۔پاکستان کے لئے میں آج یہ اعلان کرتا ہوں۔جیسا کہ میں نے اس اعلان کی وجوہات ، دلائل، ضرورتیں مختصراً بیان کیں۔پاکستان کے لئے میری طرف سے، نصرت جہاں ریز روفنڈ کا منصوبہ ہے کہ کم سے کم دو سو خلص احمدی ایسے ہوں، جو کم از کم پانچ ہزار روپے کا وعدہ کریں۔جس میں سے 2/5 فوری طور پر یعنی ایک، دوماہ کے اندر اندر اور بقیہ تین سال میں پھیلا کر ادا کر دیں۔اور دوسو خلصین ایسے ہوں، جو دو ہزار کا وعدہ کریں اور ایک ہزار فوری ادا کر دیں، باقی قسطوں میں تین سال کے عرصہ میں ادا کر دیں۔اور ایک ہزار ایسے مخلصین ، جو پانچ سو سے دو ہزار کے درمیان جتنا جتنا اللہ تعالیٰ ان کو توفیق دے دے، وہ وعدہ کریں اور جتنا وعدہ کریں، اس میں سے 2/5 فوری ادا کر دیں، یعنی ایک، دوماہ کے اندر اندر اور بقیہ تین سال کے اندر اور باوجود اس کے کہ اس وقت ملک کے فارن ایکسچینج کی موجودہ صورت میں ہم یہ رقم روپے کی شکل میں باہر نہیں بھیج سکتے ، اس کے لئے اللہ تعالیٰ دوسرے ممالک میں انتظام کر رہا ہے۔لیکن اور بہت ساری چیزیں ہیں، جن کے اوپر پاکستان میں خرچ کرنا پڑے گا۔بعض ایسے کام ہیں، جن کا اثر براہ راست مغربی افریقہ کے ممالک پر پڑتا ہے۔مثلاً کثرت سے کتب کا شائع ہونا، کثرت سے مبلغین کا ایک اور سیکم کے ماتحت ٹرینڈ کرنا وغیرہ وغیرہ۔اور جو پانچ سو سے کم دینا چاہیں، میں انہیں ثواب سے محروم نہیں رکھنا چاہتا۔مثلاً بعض دفعہ ایسی اسکیمیں آتیں ہیں، بچے آ جاتے ہیں کہ ہم طالب علم ہیں، ہمیں جیب خرچ ملتا ہے ، ہم پچاس یا سو نہیں دے سکتے ، آپ ہمیں کیوں محروم کرتے ہیں؟ ان کے لئے ہدایت ہے کہ یہ ایک دھیلے سے لے کر پانچ سو روپیہ تک جتنا چاہیں، دیں۔لیکن نقد ، تا کہ حساب نہ رکھنا پڑے۔تین سال کے اندر جب بھی اللہ تعالیٰ انہیں تو فیق دے ، وہ اس مد میں اپنی طرف سے حسب توفیق جمع کروا دیں۔لیکن ہم ان کا وعدہ نہیں لکھیں گے، نہ ان کی وصولی کا انتظام کریں گے، نہ ان کے رجسٹر بنائیں گے، پانچ سو سے کم جس نے رقم دینی ہے، وہ ایک دھیلہ، ایک روپیہ، سوروپیہ یا دوسور و پیه یا تین سور و پیه یا چار سور و پیه یا چار سو، نناوے روپے تک وہ نقد دے دے۔اس پر بھی کوئی بار نہیں اور ہمیں بھی کوئی تر در نہیں۔اور میرا اندازہ یہ ہے کہ یہ رقم انشاء اللہ 22 لاکھ سے اوپر نکل جائے گی۔جس کا مطلب یہ ہے کہ دولاکھ پونڈ سے زیادہ۔485