تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 479
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطاب فرموده 07 جون 1970ء میرے ساتھ نہ جان پہچان ، میرا امذہب مختلف، میرا دعویٰ یہ کہ تمہارے مذہب پر ہم نے غالب آنا ہے، اپنے سچائی کے نور سے اور محبت اور برہان کی پختگی کے ساتھ اور وہی لوگ ہیں، جن کو ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم نے تم پر غالب آتا ہے، ان کے دل میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں خوش ہونا چاہئے۔سوائے اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کے کس نے یہ احساس پیدا کیا کہ ان کو خوش ہونا چاہئے ؟ پس اللہ تعالیٰ کے فرشتے تو اپنا کام کر رہے ہیں۔ہمیں اپنا کام کرنا چاہئے۔حالت ان کی یہ ہے کہ قریبا بارہ سال کا ایک بچہ لائبیریا میں، امین اللہ سالک صاحب، جو ہمارے مشنری ہیں، ان کے ہاں کام کرتا ہے۔ایک دن میں نے اس سے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے؟ کہنے لگا ، جان یا جانسن۔کچھ اس قسم کا نام تھا۔میں نے کہا کہ تمہارا یہ نام نہیں ہے، آج سے تمہارا نام جمیل ناصر ہے۔اور تم مسلمان ہو۔میں نے اسے اتنا کہا اور وہ گھر چلا گیا۔چنانچہ امین اللہ سالک نے بتایا کہ وہاں جا کر ہمارے گھر اس نے خوشی سے کہا کہ آج سے میرا نام جمیل ناصر ہے اور میں مسلمان ہوں۔پس ان کی یہ حالت ہے۔عیسائیت کا لیبل لگا ہوا ہے، ان کے اوپر۔عیسائیت کا کوئی اثر نہیں اور اسلام کو قبول کرنے کے لئے وہ تیار ہیں۔کئی ایک کو میں نے کہا کہ مسلمان ہو جاؤ ، احمدی ہو جاؤ تو جواب دیا کہ ٹھیک ہے۔ہم احمدی ہو جاتے ہیں۔صرف ایک فقرہ کہنے سے بعض لوگ پڑھے لکھے تھے، انہوں نے پہلے سٹڈی کی ہوئی تھی۔مگر جماعت میں داخل ہونے سے ڈرتے تھے۔گیمبیا میں جس ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔دوسرے دن ہی وہ نوجوان، جو ہمارے کمروں میں کام کرتا تھا، اس نے ہمارے ساتھیوں سے کہنا شروع کیا کہ میرے لئے دعا کے لئے کہیں۔ایک دن میں نے ان سے باتیں کیں کہ تم سارے پندرہ سولہ ہو ، سر جوڑ ومشورہ کرو اور سارے اکٹھے فیصلہ کر کے احمدیت میں داخل ہو جاؤ۔کہنے لگے Yes sir (ٹھیک ہے، جناب) پس وہ اس قسم کے لوگ ہیں۔اگر آج ہم جائیں ،صداقت ان کے سامنے رکھیں، وہ صداقت قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔لیکن صداقت ان کے سامنے رکھنا اور یہ کوشش کرنا کہ وہ اس نور سے منور ہوں، یہ کام ان کا نہیں اور نہ وہ کر سکتے ہیں۔یہ ہمارا کام ہے، ہمیں کرنا چاہئے۔اس کے لئے جتنا پیسہ خرچ ہو، وہ ہمیں مہیا کرنا چاہئے۔جتنے آدمیوں کی ضرورت ہے، وہ ہمیں مہیا کرنے چاہئیں۔ایک اور بات میں بیچ میں لا رہا ہوں۔محبت کے اس قدر پیاسے ہیں کہ آپ اندازہ نہیں کر سکتے۔اور اتنا اثر کرتی ہے، محبت ان کے اوپر کہ دنیا کی کوئی اور چیز ان پر اتنا اثر نہیں پیدا کرسکتی۔میرے دل 479