تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 478 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 478

خطاب فرمودہ 07 جون 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم لئے جلائی جائے گی تاکہ ہمیں ہلاک کر دیا جائے۔ایک تو ہم سے کہا گیا ہے کہ تمہارا مخالف تمہیں ہلاک کرنے کے لئے آگ جلائے گا۔اور دوسرا وعدہ یہ ہے کہ یہ آگ تمہیں ہلاک نہیں کرے گی۔بلکہ اس میں سے نہایت خوشبو دار اور نہایت حسین پھول نکلیں گے، جو تمہاری فتح اور کامرانی پر نچھاور ہوں گے۔اور اس الہام میں یہ دو وعدے ہیں ، ایک وعدہ نہیں ہے۔پس جب آگ ہی نہیں ہوگی تو اس آگ کے پھول ہمیں کیسے ملیں گے؟ وہ آگ، جو ہمارے لئے پھول بنادی جائے گی اور برداً اور سلاماً بنادی جائے گی ، وہ ٹھنڈک ہم کہاں سے حاصل کریں گے؟ ہم خد تعالی کے فضل اور سلامتی کے نظارے کہاں سے دیکھیں گے؟ اگر وہ آگ نہ جلائی گئی۔غرض کامیابی اور فتح اور نصرت کے نظاروں کا انحصار اس وعدے کے پہلے حصہ پر ہے کہ مخالفت ہوگی اور وہ آگ کی شکل اختیار کرلے گی۔دنیا یہ سمجھے گی کہ احمدیوں کو جلا کر خاک کر دیا گیا ہے۔اور فرشتے ان کے اس خیال میں نہیں گے اور درود بھیجیں گے، ان احمدیوں پر ، جو خدا تعالیٰ کی محبت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی بلندی اور عظمت کے لئے دیوانہ وار اس آگ میں کو دجائیں گے۔اور پھر دنیا یہ نظارہ دیکھے گی، آگ ان کو نہیں جلا سکتی۔آگ تو ان کی غلام اور ان کے غلاموں کی بھی غلام ہے۔یہ وعدہ تو پورا ہونا ہے۔ہمارے آنے کے بعد لندن میں خطوط آئے کہ وہاں مخالفت بڑے زوروں پر ہے۔اور ان خطوط کو پڑھ کر میرے چہرے پر مسکراہٹ آئی ، گھبراہٹ نہیں پیدا ہوئی۔میں بھی خوش ہوں اور آپ بھی خوش ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جب اپنے وعدے کا پہلا حصہ پورا کر دیا تو جو اس کا دوسرا حصہ ہے، وہ بھی ضرور پورا کرے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ایسے عمل کر سکیں ، جس سے وہ راضی ہو۔وہاں ایک طبقہ کی مخالفت کے باوجود میں نے بے حد پیار دیکھا۔میں نے ایک دن میں پچاس ہزار سے زیادہ مسکراہٹیں ، غیروں سے، عیسائیوں اور بدمذہبوں سے حاصل کیں تھیں۔پچاس ہزار سے زیادہ مسکراہٹیں۔شام کو میرے اپنے جبڑے دکھنے لگ گئے تھے، مسکرا مسکرا کر۔اور اگلے دن ( ہیڈ آف دی سٹیٹ ) گون سے، جو بڑا اچھا آدمی ہے، کہا تمہاری قوم مجھے بڑی پسند آئی ہے۔کل میں نے پچاس ہزار سے زیادہ مسکراہٹیں تمہاری قوم سے لیں ہیں۔وہ بھی بڑا خوش ہوا۔ایسے پیارے وہ لوگ ہیں۔عیسائی اپنے طریق کے مطابق ہمیں دیکھ کرنا چنا شروع کر دیتے اور ان کے ناچنے سے پتہ چلتا تھا کہ یہ مسلمان نہیں، عیسائی ہیں۔ایک تو پہلے چیخ مارتے تھے، پھر اس کے بعد ناچتے تھے۔لیکن ان کے دل میں خوشی کا احساس کیوں پیدا ہوا اور کس نے پیدا کیا؟ سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے آسمان سے آئے۔478