تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 480
خطاب فرمودہ 07 جون 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چهارم کو تو ویسے ہی اللہ تعالیٰ نے محبت کرنے والا بنایا ہے۔اور پانچ پانچ ، سات سات سال کی عمر کے چھوٹے چھوٹے بچوں سے مجھے بڑا انس ہے۔چنانچہ میں تو اپنی اس دلی کیفیت کے مطابق ان بچوں کو بھی پیار کرتا رہا ہوں۔لیکن جب میں نے پہلی مرتبہ ایک افریقن بچے کو اپنی گود میں اٹھایا اور میں نے اس کو پیار کیا تو مجھے اس عمل پر ایک دھیلہ بھی خرچ نہیں کرنا پڑا۔لیکن میں نے دیکھا کہ سارے مجمع پر اتنا اچھا اثر ہوا کہ خوشی سے وہ اچھل پڑے اور وہ حیران تھے کہ کیا ہمارے بچے بھی اس قابل ہیں کہ ان سے پیار کیا جائے؟ کئی سو سال ان پر ظلم ہوا ہے اور ان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔اور یہ ان کے جذبات ہیں۔پس وہ پیار کے بھوکے ہیں۔پیار کے بھوکے بھی ہیں اور پیار کے حق دار بھی ہیں۔ان کا حق ان کو دو۔تاکہ ان کی پیاس مجھے سینکڑوں (اگر ہزاروں نہیں ) بچوں کو اٹھایا، ان سے پیار کیا۔اس کا بے حد اثر ہوا۔کل زمبیا کے ایک وزیر اور زمبیا کے ہائی کمشنر اس کمرے میں تھے، جہاں ہم جہاز کا انتظار کر رہے تھے۔وہ کامن ویلتھ کی ایک کانفرنس کو attend (اٹینڈ ) کرنے کے لئے آئے تھے۔ان کے ساتھ دس سال کی عمر کا ایک بچہ تھا۔وہاں ایک احمدی کو خیال آیا، اس نے پونڈ کا ایک نوٹ نکالا اور میرے پاس آیا کہ اس پر دستخط کر دیں، میں اپنے پاس نشانی رکھوں گا۔اس کے بعد دوسرا آیا، پندرہ، ہیں احمدی تھے، بہتوں نے دستخط کروائے۔وہ بشی بچہ ایک طرف بیٹھا ہوا تھا۔اس کے دل میں بھی خواہش پیدا ہوئی (یا) اس کے بڑوں کے دل میں خواہش پیدا ہوئی) اچانک میں نے نظر اٹھا کر دیکھا کہ ایک نوٹ میرے سامنے آیا اور وہ حبشی بچے کا تھا۔نہ ہمیں جانے ، نہ پہچانے ، وہ گیا کہ دستخط کر دیں۔وہ نوٹ تو میں نے اس کو واپس کر دیا اور اپنی جیب سے پانچ پونڈ کا ایک نوٹ نکالا اور اس پر میں نے دستخط کئے اور اس کو دے دیا۔یہ تو معمولی چیز ہے۔لیکن میں کھڑا ہوا، میں نے بڑی شفقت کے ساتھ اسے پیار کیا۔اچانک میری نظر پڑی تو اس کا باپ، ہائی کمشنر اور وزیر میرے کھڑے ہونے کے ساتھ ہی کھڑے ہوئے۔اور اتنے ممنون اس پیار کے کہ آپ اندازہ نہیں لگا سکتے۔اپنے ملک کا وہ وزیر اپنی طاقت اور وجاہت کے باوجود، جو اس کو اپنے ملک میں اللہ تعالیٰ نے دی ہوئی ہے، لیکن میں نے محسوس کیا کہ اس کو کہیں سے پیار نہیں ملا۔وزارت مل گئی اور دنیوی عزتیں مل گئیں لیکن پیار نہیں ملا۔چنانچہ وہ ایک بچے کو پیار کرنے سے اتنے متاثر ہوئے کہ آپ اندازہ نہیں لگا سکتے۔ان کا تو حال دیکھنے والا ہوتا تھا، جب میں ان کو گلے لگا لیتا تھا۔( بعض اچھا کام کرنے والے ہوتے تھے، ان سے میں پیار کرتا تھا۔) یہاں بڑا غلط خیال ہے کہ حبشی کے جسم سے بو آتی ہے۔میرا خیال ہے کہ میں نے وہاں کئی ہزار معاقے کئے ہیں اور سوائے ایک یا دو آدمیوں کے قطعاً کوئی بو نہیں آئی۔وہ بڑے صاف لوگ ہیں۔صاف 480