تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 435 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 435

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 24اکتوبر 1969ء حصہ دوم، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 197) اب مسلم ممالک سے جو بے انصافی ہورہی ہے، اس بے انصافی کو دور کرنے کے لئے ہمارے کندھوں پر دو قسم کے بوجھ ڈالے گئے ہیں، ہم پر دو قسم کی ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں۔ایک تو یہ کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کی صحیح تربیت اور حقیقی اصلاح کریں۔تاکہ ان کے دلوں میں حقیقی نیکی اور تقویٰ پیدا ہو جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کے اس طرح محبوب بن جائیں، جس طرح حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اللہ تعالی کی ہر قسم کی رحمتوں سے حصہ پانے والے تھے۔ہم پر دوسری ذمہ واری یہ عائد کی گئی ہے کہ وہ قومیں ، جو خدا تعالیٰ سے دوری اور بعد کے نتیجہ میں خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کرنے والوں پر ظلم ڈھا رہی ہیں، ان کو اسلام کی طرف لانے کی کوشش کریں۔کیونکہ اسلام ہی ایک زندہ مذہب ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ، جو ایک زندہ رسول ہیں، جن کے روحانی فیوض و برکات قیامت تک جاری ہیں اور خدائے قادر وتوانا کی طرف، جو زندہ خدا اور عظیم قدرتوں والا خدا ہے اور ہر قسم کی صفات حسنہ سے متصف ہے اور جس کے سامنے کوئی چیز انہونی نہیں ہے اور جس کا قہر ایک لحظہ میں ہر چیز کو ہلاک اور ملیا میٹ اور نابود کر سکتا ہے، اس زندہ خدا اور اس زندہ رسول کی طرف ان کو لانے کی کوشش کریں۔اور تبشیر کے ساتھ انذار کے پہلو کو مدنظر رکھیں۔ہم ان کے پاس جائیں اور ان کو جھنجھوڑیں، ان کو جگانے اور بیدار کرنے کی کوشش کریں۔مگر وہ اس طرح خواب میں بد مست پڑے ہیں کہ ہماری آواز سننے کے وہ اہل ہی نہیں اور جو نیند سے بیدار ہیں ، وہ ہماری آواز کو سننے کے لئے تیار نہیں۔لیکن اگر چہ وہ ہماری آواز کو سننے کے لئے تیار نہیں۔اگر چہ ان میں سے بہت سے روحانی لحاظ سے اتنی گہری نیند میں مدہوش ہیں کہ ہماری آواز ان کے کانوں تک نہیں پہنچ سکتی لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ذمہ واری ڈالی گئی ہے کہ تم جاؤ اور ان کو جگاؤ اور بیدار کرو اور ان کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی طرف لے کر آؤ۔اور اسلام نے جس ہستی کو اللہ کے طور پر پیش کیا ہے، اس سے ان کو متعارف کراؤ۔اور ان کے دلوں کے سارے اندھیروں کو اسلام کے نور سے منور کرنے کی کوشش کرو۔اور ان کے اندر نیکی اور تقویٰ کا بیج بود و۔اس غرض کے لئے پہلے زمین صاف کرنی پڑتی ہے اور اسے کاشت کے قابل بنانے کے لئے بڑی جد و جہد کرنی پڑتی ہے۔پھر اس قسم کا بیج بویا جاتا ہے۔ہم کمزور اور بے بس اور بے مایہ ہیں۔مگر کام بڑا ہی اہم ہے، جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے۔ذمہ واری بڑی ہی بھاری ہے، جو ہمارے کندھوں پر ڈال دی گئی ہے مگر ساتھ ہی ہمیں بڑی بشارتیں بھی دی گئی ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا 435