تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 433 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 433

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرموده 24 اکتوبر 1969ء ضرورت ہے۔خدا کرے کہ ہم اپنی تمام کمزوریوں کے باوجود جو حقیر رقم بھی اس کے حضور پیش کر چکے ہیں، وہ اسے اپنے فضل سے قبول فرمائے اور ہم سب کو اپنی رحمت سے نوازے۔میں امید کرتا ہوں کہ یہ بقیہ دولاکھ، پچاس ہزار روپے کے وعدے بھی انشاء اللہ تعالیٰ چند ماہ کے اس بقیہ عرصہ میں، یعنی یکم اپریل تک ، وصول ہو جائیں گے۔بعض بڑی جماعتیں مالی قربانی کے لحاظ سے بڑی ہی ست واقع ہوئی ہیں۔جن میں سے ایک راولپنڈی کی جماعت ہے۔دوست ان کے لئے دعا بھی کریں۔کیونکہ میرا تاثر یہ ہے کہ جہاں تک کوشش کا تعلق ہے، اس میں وہ کمی نہیں کرتے۔لیکن جہاں تک انسانی کوشش میں برکت کا سوال ہے، ان کی کوششوں میں برکت نظر نہیں آتی۔اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے۔جس خرابی کی وجہ سے ان کی یہ حالت ہوگئی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی برکت سے محروم ہو گئے ہیں، یہ خرابی یا یہ بیماری دور ہو جائے۔بعض دفعہ تکبر جماعتی بھی ہوتا ہے۔یعنی بعض جماعتوں میں تکبر پیدا ہو جاتا ہے، ایسے ہی جس طرح بعض افراد میں تکبر پیدا ہو نا ہے۔یہ بھی شاید کسی تکبر یا نخوت یا خود پسندی یا اپنے مقام کو نہ پہنچاننے یا دوسرے کے مقام کو نہ پہچاننے کی وجہ سے برکت سے محروم ہو گئے ہیں۔بہر حال خدا تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کی کس قسم کی بیماری ہے، جس نے ان کے کام سے برکت کو چھین لیا ہے۔خدا کرے کہ ان کے کام بابرکت ہوں۔وہ شانی مطلق ، جس کی تشخیص بھی صحیح ترین اور سب سے اچھی اور جس کا علاج بھی بہترین علاج ہے، وہ ان کا طبیب بنے اور وہ ان کی بیماری کو دور کرے۔تا ان کی کوششوں کے بھی بہترین نتائج نکلنے شروع ہو جائیں۔کچھ اور مقامات بھی ایسے ہوں گے، اللہ تعالیٰ سب پر ہی فضل کرے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تحریک جدید کے ذمہ اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق جو کام لگایا ہے، وہ بڑا ہی اہم اور بڑا ہی مشکل ہے۔تحریک جدید کے ذمہ یہ کام ہے کہ آج اللہ تعالیٰ نے جو یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ پھر سے اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرے گا، یہ مجلس اس وعدہ کو پورا کرنے کے لئے جدو جہد کرے۔اور ساری جماعت ان کے ساتھ شامل رہے۔کیونکہ سارے ایک جان ہی ہیں۔یہ کام بڑا ہی مشکل ہے۔اس میں اندرونی رکاوٹیں بھی ہیں اور بیرونی رکاوٹیں بھی۔ایک طرف روس ہے، جو بالکل دہریہ ہے، اللہ تعالیٰ کو ہی نہیں مانتا۔اس کے قائدین نے ایک وقت میں تو ساری دنیا میں یہ اعلان کیا تھا کہ (نعوذ باللہ ) ہم زمین سے اللہ تعالیٰ کے نام کو اور آسمانوں سے اللہ تعالیٰ کے وجود کو مٹادیں گے۔یہ لوگ روحانیت میں اس قسم کے ہیں۔لیکن آخر ہیں تو اللہ تعالیٰ کے بندے۔اور اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ پھر 433