تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 432 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 432

خطبہ جمعہ فرمودہ 24 اکتوبر 1969ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم روپے جمع کر لیں گے، اس میں ہم کامیاب نہیں ہو سکے۔کیونکہ اس عرصہ میں (صحیح اعداد وشمار تو اس وقت ہمارے ذہن میں نہیں) میرا اندازہ ہے کہ پانچ، سات لاکھ روپے پاکستانی جماعتوں نے فضل عمر فاؤنڈیشن میں ادا کئے ہیں۔اور جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان پانچ ، سات لاکھ روپے کی ادائیگی کے ساتھ ہی انہوں نے تحریک جدید کے لئے اسی ہزار روپے کی زائد رقم کا وعدہ کیا ہے تو باوجود اس کے کہ جو target مقرر کیا گیا تھا، اس تک ہم نہیں پہنچنے پائے۔لیکن پھر بھی جماعت نے بڑی ہمت سے کام لیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے اخلاص اور قربانیوں میں اور بھی زیادہ برکت ڈالے اور ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔یہ بھی بڑی خوشکن بات ہے کہ مالی جہاد میں حصہ لینے والوں کی تعداد میں قریباً اڑھائی ہزار افراد کا اضافہ ہوا ہے۔الحمد للہ۔ایک اور چیز ہمارے سامنے آئی ہے اور وہ یہ ہے کہ میں نے تحریک جدید کے ہر دفتر ( یعنی اول ، دوم، سوم ) کے عطیہ کی جو فی کس اوسط بنتی ہے، وہ جماعت کے سامنے پیش کی تھی۔اور میں نے بتایا تھا کہ دفتر اول میں حصہ لینے والوں کے چندوں کی اوسط فی کس 64 روپے بنتی ہے۔لیکن دفتر دوم میں حصہ لینے والوں کی اوسط فی کس صرف 19 روپے بنتی ہے۔دفتر دوم کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔کیونکہ ترقی کا بڑا وسیع میدان ان کے سامنے ہے۔دفتر دوم کو اس طرف بھی کچھ توجہ ہوئی ہے۔چنانچہ سال رواں میں 19 روپے کے مقابلہ میں جو اوسط بنی ہے، وہ 24 روپے فی کس ہے۔یعنی 5 روپے فی کس کا اضافہ ہوا ہے۔یہ بھی خوش کن ہے۔لیکن اس اضافہ پر شہر نانہیں چاہیے بلکہ آئندہ سال اس سے بھی زیادہ اچھی اور خوشکن اوسط فی کس ہونی چاہیے۔ایک اور بات جس کی طرف میں اس وقت توجہ دلانا چاہتا ہوں ، وہ یہ ہے کہ تحریک جدید کے وعدے، جیسا کہ میں نے بتایا ہے، پچھلے سال کے مقابلہ میں اس سال 80 ہزار روپے زائد کے ہیں۔اور یہ وعدے چھ لاکھ، تمیں ہزار روپے کے ہیں۔لیکن اس وقت تک وصولی صرف تین لاکھ، اسی ہزار روپے ہوئی ہے۔یعنی یکم اپریل تک دولاکھ، پچاس ہزار روپیہ اور وصول ہونا چاہیے۔میں سمجھتا ہوں کہ دفتر کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔انشاء اللہ تعالیٰ یہ رقم پوری ہو جائے گی۔کیونکہ گزشتہ چھ ماہ میں بڑا حصہ وہ تھا، جس میں جماعت کو فضل عمر فاؤنڈیشن کے وعدے پورا کرنے کی طرف توجہ تھی۔یہ وعدے خدا تعالی کے حضور پیش ہو چکے، (سوائے چند استثنائی حالات کے اللہ تعالی انہیں قبول فرمائے۔ہم اس کے فضل اور رحم پر بھروسہ رکھتے ہیں۔جو ہم نے کیا یا جو کر سکے ہیں، اس کے اوپر ہمارا بھروسہ نہیں۔کیونکہ انسان محض اپنی قوت یا طاقت یا مال کی قربانی سے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل نہیں کر سکتا۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل کی 432