تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 364 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 364

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 18 اکتوبر 1968ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم آئے گا۔اسلام تو بہر حال غالب آئے گا۔لیکن کیوں نہ وہ ہمارے ہاتھ سے غالب آئے؟ کیوں غیر اللہ کے فضلوں کے وارث بنیں اور ہم محروم رہ جائیں؟ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم بھی اور ہماری بعد میں آنے والی نسلیں بھی اور وہ لوگ بھی جو ہمارے ساتھ بعد میں آکر شامل ہوں گے، سارے ہی خدا کے فضلوں کے وارث بنیں اور اس کے انعامات کے مستحق ٹھہریں۔پس بخل کو دل سے نکال دینا چاہیے اور اس یقین کامل کے ساتھ نکال دینا چاہیے کہ خدا کی راہ میں بخل دکھانا، جہنم کو مول لیتا ہے۔اور اس سے زیادہ شر اور کوئی ہے نہیں۔غرض اگر ہم خیر چاہتے ہیں تو ہمیں دل سے بخل نکالنا پڑے گا اور خدا تعالیٰ کے در پر کھڑے ہو کر یہ کہنا پڑے گا کہ اے خدا ! سب کچھ تو نے ہی ہمیں دیا ہے، ہم سے جتنا تو چاہتا ہے، لے لے۔ہم جانتے ہیں ، زمین و آسمان کی میراث تیری ہی ہے، سب کچھ تیرا ہے، تو ہمارا امتحان لیتا ہے، آزماتا ہے اور تو ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم ان چیزوں کو ، جو تیرے فضل نے ہمیں دی تھیں، تیرے حضور ساری (اگر ساری کی ساری دینے کا حکم ہو ) یا کچھ (اگر کچھ دینے کا حکم ہو ) پیش کر دیں۔سو ہم یہ چیزیں اس یقین پر اور اس دعا کے ساتھ پیش کر رہے ہیں کہ تو ہم پر رحم کرے اور اپنی دینی اور دنیوی نعمتوں سے ہمیں نوازے۔اور اس دنیا میں بھی تیری رضا کی نظر ہم پر رہے اور اس دنیا میں بھی ہم تیری رضا حاصل کرنے والے ہوں۔اس وقت میں احباب جماعت کو دو چندوں کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔ایک تو چندہ تحریک جدید ہے اور دوسرا چندہ وقف جدید۔تحریک جدید کی آمد اب تک جو ہوئی ہے، وہ تسلی بخش نہیں۔گو وہ ہے کافی (جماعت بڑی قربانی کرنے والی ہے) لیکن بعض دفعہ احباب جماعت تو چست ہوتے ہیں مگر مقامی طور پر نظام جماعت ست ہوتا ہے اور اس طرح کاغذوں میں کمی نظر آ جاتی ہے۔ہماری دو جماعتیں ہیں، جن کا چندہ زیادہ ہوتا ہے اور ان کے تحریک جدید کے وعدے بھی زیادہ ہیں۔وہ دو جماعتیں ربوہ اور کراچی ہیں۔ربوہ ابھی تک اس وعدہ سے بھی پیچھے ہے، جو اس نے پچھلے سال انصار اللہ کے اجتماع کے موقع پر کیا تھا۔اسی طرح کراچی کی جماعت بھی ابھی اس وعدہ سے پیچھے ہے، ( وعدوں کے لحاظ سے، ادائیگی کے لحاظ سے نہیں۔) جو مجموعی طور پر کراچی کی طرف سے پچھلے سال انصار اللہ کے اجتماع کے موقع پر ہوا تھا۔کراچی کی جماعت نے یہ مجموعی وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ہم احباب جماعت میں تحریک کر کے ایک لاکھ، ایک ہزار روپیہ تحریک جدید کی مد میں ادا کریں گے۔اس وعدہ میں ابھی سات، آٹھ ہزار روپیہ کی کمی ہے۔ربوہ کا وعدہ ستر ہزار روپیہ کا تھا۔اس وعدہ کے لحاظ سے ربوہ بھی سات ہزار پیچھے ہے۔یعنی ابھی تک 63 ہزار روپیہ کے وعدے ہوئے ہیں۔364