تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 363
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 18 اکتوبر 1968ء غرض حقیقی خیر چاہے دنیوی ہو یا اخروی، وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر نہیں ملا کرتی۔ویسے اللہ تعالیٰ کتوں کو بھی بھوکا نہیں مار رہا۔سو ر بھی اس کی بعض صفات کے جلوے دیکھتے ہیں۔ان کو بھی خوراک مل رہی ہے اور ان کی ( مثلاً بیماریوں سے ) حفاظت بھی ہو رہی ہے۔سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کسی زمانہ میں وباء کے طور پر اس قسم کے جانوروں کو ہلاک کر دے۔جس طرح وہ بعض دفعہ انسان کی بعض گنہ گار نسلوں کو فنا کر دیتا ہے۔لیکن جو سلوک ان جانوروں سے ہو رہا ہے، وہ اس سلوک سے بڑا مختلف ہے، جو انسان سے ہو رہا ہے۔اور جو سلوک ایک کتے سے ہورہا ہے، جو سلوک ایک سو ر سے ہو رہا ہے، جو سلوک ایک گھوڑے یا بیل یا پرندوں سے ہورہا ہے، اس کے مقابلہ میں جو سلوک ایک انسان سے ہورہا ہے ، اس کو ہم خیر کہہ سکتے ہیں۔باقی عام سلوک ہے۔گو ایک لحاظ سے وہ بھی خیر ہے۔لیکن صحیح اور حقیقی معنی میں وہ خیر نہیں۔اور انسان خیر کا محتاج ہے۔اگر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر نہ ملے بلکہ اس سے عام سلوک ہو تو اس دنیا میں تو اس کا پیٹ بھر جائے گا مگر اس دنیا میں بھوک کیسے دور ہوگی؟ یا مثلاً اس دنیا میں سورج کی تپش ہے۔اگر اسے ایک چھوٹا یا بڑا امکان مل گیا تو وہ اس تپش سے محفوظ ہو جائے گا لیکن اس دنیا میں جہنم کی آگ سے اسے کون بچائے گا؟ اس دنیا میں اسے کوئی بیماری ہوئی تو کسی حکیم نے اسے روپیہ کی دوائی دے دی یا کسی ڈاکٹر نے دو ہزار روپیہ کی دوائی دے دی اور اسے آرام آ گیا۔یہ درست ہے۔لیکن اس دنیا میں جہنم میں جو بیماری ظاہر ہوگی ، جسم میں پیپ پڑی ہوئی ہوگی کسی کو کوڑھ ہوا ہو گا، کسی کو فالج ہوگا اور کسی کو پتہ نہیں کون سی بیماری ہو، روحانی طور پر جو اس کی یہاں حالت تھی ، وہ وہاں ظاہر ہورہی ہوگی۔وہاں کون ڈاکٹر اس کے علاج کے لئے آئے گا ؟ پس انسان کو ہر کام کے لئے اللہ تعالیٰ کی احتیاج ہے۔اور ہمیں ہر قسم کی قربانیاں اس کی راہ میں دینی چاہئیں۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ پر ( مجھ پر بھی اور آپ پر بھی ) بڑا افضل کیا ہے۔اور ہمیں تو فیق عطا کی ہے کہ ہم اس کے مسیح موعود پر ایمان لائیں اور اس کی راہ میں اس نیت سے قربانیاں دیں کہ اس کی رضا ہمیں حاصل ہو اور دنیا میں اسلام غالب آجائے۔اس وقت غلبہ اسلام کے راستہ میں جتنی ضرورتیں بھی پیش آتی ہیں، وہ آپ لوگوں نے ہی پوری کرنی ہیں۔اگر آپ ان ضرورتوں کو پورا نہیں کریں گے تو کھڑے ہو کر یہ تقریریں کرنا کہ اسلام کا غلبہ مقدر ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے گا کہ ہمارے ذریعہ سے اسلام غالب آئے ، بے معنی چیز ہے۔اللہ تعالیٰ دنیا میں اسلام کو غالب تو کرے گا۔لیکن اگر ہم بحیثیت جماعت ، خلق جدید کے مستحق نہیں ٹھہریں گے تو دنیا میں کسی اور قوم میں خلق جدید کا نظارہ نظر 363